ایک رمضان کا روزہ چھوڑنے کا کیا فدیہ ہوتاہے؟
کسی صحیح سالم اور تندرست شخص کےلئے بغیر کسی شرعی عذر کے رمضان المبارک کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں، بلکہ رمضان المبارک کے مہینے میں رمضان کے روزے رکھنا لازم و ضروری ہے، اور اگر کوئی شخص قصداً بلاکسی عذر کے رمضان المبارک کے روزے چھوڑے تو اُس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہوگا، جس پر اُسے توبہ و استغفار اور چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء لازم اور ضروری ہوگی، توبہ و استغفار اور قضاء کے علاوہ شرعاً اُس کا کوئی فدیہ وغیرہ لازم نہیں، البتہ اگر کوئی شخص ضعف یا بیماری کی وجہ سے فی الحال روزے نہ رکھ سکتا ہو،اور نہ ہی آئندہ کےلئے صحت یاب ہوکر روزے رکھنے کی توقع اور امید ہو،تو ایسی صورت میں اس شخص کے ذمہ رمضان المبارک کے روزوں کا فدیہ دینا لازم ہوگا،اور ہر روزے کا فدیہ صدقہ فطر(احتیا طاً دو کلو گندم یا اس کی قیمت)کے بقدر ہوگا،اسی حساب سے تمام روزوں کا فدیہ دینا چاہیئے۔
کما فى الدر المختار: (وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي)وجوباً ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرا والا فيستغفر الله إلخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله وللشيخ الفاني)أي الذي فنيت قوته أو أشرف على الفناء، ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت نهر،ومثله ما في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعلية الفدية لكل يوم من المرض اھ (ج2،صـــ427،ط:سعید)۔
وفیھا أیضاً: (قوله لم تجز الفديه)اى في حال حياته بخلاف ما لو اوصى بها كما مر تحريره اھ (ج2،صـــ427،ط:سعید)
وفى الهندية: فان برئ المريض او قدم المسافر وادرك من الوقت بقدر ما فاته فيلزمه قضاء جميع ما ادرک اھ (ج1،صـــ207،ط:ماجدیۃ)۔