احکام وراثت

سرکاری زمین میں وراثت کا حکم

فتوی نمبر :
95499
| تاریخ :
2026-05-19
معاملات / ترکات / احکام وراثت

سرکاری زمین میں وراثت کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امیرخان نے دو شادیاں کی تھیں، پہلی بیوی سے2بیٹے، دوسری بیوی سے4بیٹےتھے، امیرخان نےاپنی زندگی میں پہلی زوجہ کے2 بیٹوں محمدنواز اور سعداللہ خان کواپنی جائیداد میں سےکچھ زمین دیدی تھی، جس میں بعض زمین انتقالی ہے، بعض زمین سرکاری ہے، جس میں سےکچھ زمین سرکارواپس لےچکی ہے۔کچھ سرکاری زمین کا قبضہ اب بھی ہمارےپاس ہے، یہ جائیداد2بھائیوں کےدرمیان مشترک تھی، کچھ عرصے کےبعد1971میں والد کی موجودگی میں ایک بیٹا محمد نواز وفات پاگیا، جوکہ غیرشادی شدہ تھا، اسکےبعد انکےوالد امیر خان کابھی انتقال ہوچکاہے، چونکہ آج امیر خان کی دوسری بیوی کی اولاد محمدنواز مرحوم جو کہ انکاعلاتی بھائی ہے اس کی میراث میں والد کاجوحصہ بنتاتھا،اس کامطالبہ کررہےہیں، انکےبقول کہ والد اپنی زندگی میں سعداللہ خان سےبھی بار بار مطالبہ کرچکاہے کہ آپ کےپاس محمدنواز کاجوحصہ ہے، اسمیں جومیرا حق ہے ، وہ مجھے دیاجائے۔لیکن والد کونہیں دیاگیا۔آج سعد اللہ خان کےبیٹے اپنےعلاتی چچاؤں کو حصہ دے رہے ہیں ۔تو سوال یہ ہیکہ جو زمین امیر خان نےسعد اللہ اور محمد نواز کو مشترکہ طور پر دی ہے۔اسمیں جوسرکاری زمین ہے۔جس پر سعداللہ خان نے مارکیٹ بنائی ہے۔جوکہ سعد اللہ کےپاس تھی آج بھی سعداللہ کےبیٹوں کےپاس ہے۔اسمیں میراث جاری ہوگی کہ نہیں ؟ سعداللہ کے بیٹوں کا کہنا ہیکہ اس سرکاری زمین میں میراث جاری نہ ہوگی، کیونکہ یہ تو ہم نےقبضہ کیاہواہے۔ پہلےدادا نے قبضہ کیاتھا۔پھر ہمارے والد سعداللہ نےقبضہ رکھاتھا۔آج ہم نےقبضہ کیاہواہے۔ سرکار کسی وقت بھی ہم سےلےسکتی ہے۔جس طرح پہلے کچھ زمین لی ہے۔تو انکی یہ بات ٹھیک ہےیا غلط؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ میراث صرف اسی مال میں جاری ہوتی ہے جو مورث کی ملکیت ہو، چنانچہ جس مال پرمورث کی ملکیت ثابت نہ ہووہ اس کے ترکہ میں شامل ہوکر اس کے ورثاء میں تقسیم نہ ہوگا ۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں جس زمین کے بارے میں متحقق ہو کہ وہ سرکاری زمین ہے اور اس کی اصل ملکیت حکومت کی ہے، وہ کسی فرد کی ذاتی ملکیت میں داخل نہیں ہوگی، خواہ اس پر قبضہ یا تصرف ہی کیوں حاصل نہ کیا گیا ہو۔ ایسی زمین شرعاً غصب کے حکم میں داخل ہوتی ہے، اور غصب شدہ چیز میں وراثت جاری نہیں ہوتی ، اس لیے مذکور سرکاری زمین امیر خان مرحوم کے ترکہ میں شامل کرکے اس کے ورثاء میں تقسیم نہیں ہوگی، البتہ جو زمین امیر خان کی ذاتی ملکیت تھی اور انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں سعداللہ خان اور محمد نواز کوبطور ہبہ باقاعدہ تقسیم کرکے مکمل قبضہ اور تصرف کے ساتھ دیدی ہو، تو وہ زمین انہی کی ملکیت شمار ہوگی ۔اورمحمدنوازکے انتقال کے وقت اس کےوالد(امیرخان )چونکہ زندہ تھے ،اس لیےاس کے ترکہ میں ان کابھی شرعی حق تھاجو مرحوم کے بھائی کے ذمہ والدکو دینالازم تھا،چنانچہ والدکے انتقال کے بعداب اس حصہ کوبھی دیگرترکہ کے ساتھ ملاکرامیرخان کے تمام ورثاء (بشمول سعداللہ خان کے علاتی بھائی)میں تقسیم کیاجائےگا ، لیکن اگروہ زمین امیرخان نےباقاعدہ تقسیم کرکے قبضہ و تصرف کے ساتھ اپنے دونوں بیٹوں (محمدنواز،سعداللہ خان) کونہ دی ہو، تو وہ بدستور امیر خان کی ملکیت میں رہی، جو ان کی وفات کے بعد ترکہ میں شامل کرکے تمام ورثاء (دونوں بیواؤں اوران کی اولادو ں )میں بقدرِحصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى(باب الغصب والعارية، الفصل الثاني، رقم الحديث: ٢٩٤٦، مط: المكتب الاسلامي)
وفي مرقاة المفاتيح: (" ألا ") للتنبيه أيضا وكرره تنبيها على أن كلا من الجملتين حكم مستقل ينبغي أن ينبه عليه، وأن الثاني حيث يتعلق به حق العباد أحق بالإشارة إليه، والتخصيص لديه (" لا يحل مال امرئ ") أي: مسلم أو ذمي (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه.( باب الغصب والعارية، ج: ٦، ص: ١٤٩، مط: حقانية)
وفی الہندیة: وأما ما يرجع إلى الواهب فهو أن يكون الواهب من أهل الهبة، وكونه من أهلها أن يكون حرا عاقلا بالغا مالكا للموهوب حتى لو كان عبدا أو مكاتبا أو مدبرا أو أم ولد أو من في رقبته شيء من الرق أو كان صغيرا أو مجنونا أو لا يكون مالكا للموهوب لا يص ح، هكذا في النهاية.(کتا ب الہبۃ، الباب الأول في تفسير الهبة وركنها وشرائطها، ج: ٤، ص: ٣٧٤، مط: ماجدية)
و فی التاترخانیۃ: وأما شرائط صحتها فأنواع ،أما في الموهوب فهو أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما اذا كان ما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب (كتاب الهبة ، ج: ١٤، ص؛ ٤١٢،ناشر: حقانية)
وفي الدر المختار : وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ‌ولو ‌وهب ‌في ‌صحته كل المال للولد جاز وأثم.اھ(کتاب الہبۃ، ج:٥، ص: ٦٩٦، مط: سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95499کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات