بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔جناب عالی! " السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"۔مسئلہ میراث ۔ہم سات بھائی ہیں اور ایک بہن ہے، ہم سب کا مشترکہ ایک مکان ہے جو والد صاحب کا ہے اور ان کے نام پر ہے ،دو سال پہلے والد صاحب کا انتقال ہو گیا، ان کی موجودگی میں ہم پر (کے الیکٹرک) کا 14 لاکھ کا بل جمع ہوا ہے، اب ہم اس مکان کو بیچ کر سارے بھائیوں اور بہن میں میراث تقسیم کرنا چاہتے ہیں ،ہم سات بھائیوں میں سے ایک بھائی 9۔ 10 سال پہلے مکان چھوڑ کر الگ ہو گیا تھا، اس بھائی کی موجودگی میں جو بل اس گھر پر تھا، وہ تقریباً اس وقت ڈیڑھ لاکھ تھا ،اب 14 لاکھ تک پہنچ گیا ،اب ہم یہ بل ادا کر کے سب کو ان کا حصہ دینا چاہتے ہیں ،اب مسئلہ یہ ہے کہ جو بھائی گھر سے باہر تھا 9۔ 10 سال تک، وہ کہتا ہے کہ یہ بل میرے حصے میں نہیں آئے گا ،میں یہ بل نہیں دوں گا ، کیونکہ میں گھر میں نہیں تھا، اب آپ بتائیں کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور مکان چونکہ والد ِ مرحوم کی ملکیت ہے، لہٰذا مرحوم کے انتقال تک جتنا بل واجب الادا ہوچکا تھا، اگر وہ بلز والد مرحوم ہی ادا کیا کرتے تھے تو اتنا بل توترکہ سے ادا کرنا درست ہے، البتہ انتقال کے بعد سے لیکر اب تک جو بل واجب الادا ہوا ہے، اس کی ادائیگی مذکور مکان میں رہائش پذیر افراد پر لازم ہوگی، اس بل کی ادائیگی مجموعی ترکہ سے کرنا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما في الدر المختار: (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) (إلى قوله) (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) (إلى قوله) (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) اھ (کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 759، م: سعید)۔
وفی القواعد والضوابط الفقهية في الضمان المالي : وأما قاعدة (الغرم بالغنم):فإنها وإن جاءت على عكس قاعدة (الخراج بالضمان) أي الغنم بالغرم في اللفظ إلا أن المعنى فيهما متفق، وقد ذكر العلماء لهذه القاعدة صيغا كلية ونصوصا فقهية أسوقها كما يلي:1) الغرم بالغنم:نص على هذه الصيغة كل من : أبي سعيد الخادمي وأصحاب مجلة الأحكام العدلية 2) من كان الشيء له كانت نفقته عليه:نص على هذه الصيغة شيخ الإسلام ابن تيمية .3) من ملك الغنم كان عليه الغرم:نص على هذه الصيغة يوسف بن عبد الهادي .4) النقمة بقدر النعمة:نص على هذه الصيغة أصحاب مجلة الأحكام العدلية .5) كل مشترك نماؤه للشركاء ونفقته عليهم ونقصه عليهم( المبحث الأول: قاعدة: الخراج بالضمان وقاعدة: الغرم بالغنم، المطلب الأول: في صيغ القاعدة، ص: 203،204، ط: دار كنوز إشبيلية للنشر والتوزيع، السعودية)
وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام : (إذا احتاج الملك المشترك للتعمير والترميم فيعمره أصحابه بالاشتراك بنسبة حصصهم)....الخلاصة: إن نفقات الأموال المشتركة تعود على الشركاء بنسبة حصصهم في تلك الأموال حيث إن الغرم بالغنم ۔ (الكتاب العاشر، الشركات، الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة، الفصل الأول في بيان تعمير الأموال المشتركة وبعض مصروفاتها الأخرى، المادة (1308) ج:3، ص: 310، ط: دار الجيل)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0