السلام علیکم ورحمۃ اللہ،
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔ ورثہ میں تین بھائی اور سات بہنیں ہیں۔ مکان کے کاغذات میں والد صاحب (مرحوم) کا ہی نام ہے، لیکن میرے چچا جان کا کہنا ہے کہ اس مکان میں میرا آدھا حصہ ہے۔ ان کی دلیل یہ ہےکہ جب تقسیمِ ہند کے بعد ہم یہاں (پاکستان) آئے تو کچھ عرصے بعد مجھے اور میرے بڑھے بھائی یعنی والد صاحب کو گیارہ گیارہ ہزار روپے کلیم کے ملے تھے۔ میرے گیارہ ہزار میرے والد صاحب جو کہ بڑے بھائی تھے ان کے پاس رکھوا دیئے گئے، میں نے اپنی رقم ان سے نہیں مانگی تھی کچھ عرصے بعد والد صاحب نے ایک زمین خریدی والد صاحب ملازمت کرتے تھے زمین کی خریداری و تعمیرِ مکان ممکن نہ تھا، اس لیے میرے گیارہ ہزار زمین کی خریداری و تعمیر میں لگے ہوں گے اور اگر میں اس وقت گیارہ ہزار کی زمین لے لیتا تو آج وہ ایک کڑور سے زائد کی ہوتی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا چچا جان کا کہنا صحیح آیا وہ اس مکان کے آدھے حصے کے حقدار ہیں؟ جبکہ زمین کے کاغذات کے علاوہ کوئی تحریری ثبوت بھی موجود نہیں۔ اور نہ ہی کوئی زبانی گواہ جس سے چچا جان کی بات کی کسی طرح تائید و توثیق ہوتی ہے، شرعی رہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ مىں سائل کے چچا کے پاس اپنے مذکور دعوی پر کوئی گواہ یا تحریری ثبوت موجود نہ ہو، اور معاملہ عدالت کے پاس چلا جائے، تو ورثاء پر اس دعوی سے متعلق کسی قسم کا علم نہ ہونے پر قسم کھانی لازم ہوگی، اگر وہ یہ حلف لے لیتے ہیں، تو ایسی صورت میں چاچا کا مذکور دعوی کا شرعاً کوئی اعتبار نہ ہوگا، اور والد مرحوم کی تمام تر ملکیت وراثاء کے مابین تقسیم کرنی لازم ہوگی۔
كما في بدائع الصنائع: وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله عليه الصلاة والسلام «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل عليه الصلاة والسلام البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين اهـ (كتاب الدعوى، فصل في حجة المدعي والمدعى عليه، ج:٦، ص:٢٢٥، ط: سعيد)
وفي دررالحكام في شرح مجلة الاحكام: وإذا ادعى المدعي دعواه في حضور وارث واحد وأنكر الوارث المدعى عليه الدين وعجز المدعي عن الإثبات فيحلف كل وارث على حدة على كونهم لا يعلمون بأن الميت مدين للمدعي بذلك المبلغ أو بأقل منه ولا يسقط اليمين عن باقي الورثة بحلف بعض الورثة؛ لأن الناس يتفاوتون في اليمين ولأن الوارث يستحلف على العلم وربما لا يعلم الأول بدين الميت ويعلم الثاني (الخانية) [(المادة 1642) يصح أن يكون أحد الورثة خصما في الدعوى التي تقام على الميت أو له، ج:٤، ص:٢٥٣، ط: دارالجيل]
وفي الفتاوى الهندية: وإن لم تكن للمدعي بينة، وأراد استحلاف هذا الوارث، يستحلف على العلم عند علمائنا - رحمهم الله تعالى - بالله ما تعلم أن لهذا على أبيك هذا المال الذي ادعى، وهو ألف درهم، ولا شيء منه اهـ (كتاب أدب القاضي، الباب الخامس والعشرون في إثبات الوكالة والوراثة وفي إثبات الدين، ج:3 ص: 407 ط: دار الفكر بيروت)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2