کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
مسئلہ نمبر 1 (پلاٹ کی ملکیت اور وراثت کا حکم): میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں تیسر ٹاؤن اسکیم میں ہم دو بھائیوں اور دو بہنوں کے نام سے پلاٹس بک کرنے کے لیے درخواستیں (Applications) دی تھیں۔ جب قرعہ اندازی (Balloting) ہوئی تو میرا (یعنی محمد عمران کا) اور میری دو بہنوں (رابعہ ارم اور عظمیٰ) کا نام نکل آیا اور پلاٹ کامیاب (Successful) ہو گئے، جبکہ میرے چھوٹے بھائی (محمد رضوان) کے نام کی درخواست مسترد (Reject) ہو گئی۔والد صاحب نے اپنی زندگی میں ان تینوں کامیاب پلاٹس کی تمام اقساط (Complete Payment) خود اپنے پاس سے ادا کیں اور تینوں پلاٹس کے الاٹمنٹ لیٹر بھی ہمارے ناموں پر جاری ہو گئے (یعنی ایک پلاٹ میرے یعنی محمد عمران کے نام پر، دوسرا رابعہ ارم کے نام پر، اور تیسرا عظمیٰ کے نام پر)۔
اب میں اپنے نام کا پلاٹ فروخت کرنا چاہتا ہوں۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ: کیا اس پلاٹ پر والد صاحب کی وفات کے بعد وراثت کا قانون لاگو ہوگا اور یہ والد صاحب کا ترکہ شمار ہو کر تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا؟ یا یہ پلاٹ صرف میری ذاتی ملکیت ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل کے والد نے یہ پلاٹس جن بچوں کے نام پر خریدیں تھے، اگر وه بچے اس وقت بالغ تھے اور والد نے انہیں باقاعدہ قبضہ و مکمل تصرف کا اختیار بھی دے دیا تھا، اس طور پر کہ یہ بچے والد صاحب کی زندگی میں اسے فروخت کرنے یا بنانے میں خود مختار ہوں، تو شرعاً ىہ ہبہ و گفٹ مکمل ہو کر وہ بچے اپنے اپنے پلاٹ کے مالک بن چکے ہیں، اور وہ ان میں جس طرح تصرف کرنا چاہىں کر سکتے ہیں، دیگر ورثاء کا ان پلاٹس کو والد کے تركہ کا حصہ شمار کر کے اس میں حصہ داری کا مطالبہ کرنا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (وجعلته لك) لأن اللام للتمليك بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة وكذا هي لك حلال إلا أن يكون قبله كلام يفيد الهبة خلاصة اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، (إلى قوله) وإن قال: جعلته باسم ابني، يكون هبة؛ لأن الناس يريدون به التمليك والهبة اهـ وفيه مخالفة لما في الخلاصة كما لا يخفى اهـ قال الرملي: أقول: ما في الخانية أقرب لعرف الناس تأمل اهـ (إلى قوله) (قوله: ليس بهبة) بقي ما لو قال: ملكتك هذا الثوب مثلا، فإن قامت قرينة على الهبة صحت، وإلا فلا لأن التمليك أعم منها لصدقه على البيع والوصية والإجارة وغيرها. [كتاب الهبة، ج:5 ص:689 ط: سعيد]
وفي الفتاوى الهندية: ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة اهـ [كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج:4 ص:377 ط: دار الفكر بيروت]
وفي الفتاوى التاترخانية: وأما شرائط صحتها فأنواع ،أما في الموهوب فهو أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما اذا كان ما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب (كتاب الهبة، ج: ١٤، ص:٤١٢، ط: حقانية)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2