میرے والد کل تین بھائی اور پانچ بہنیں تھے۔ ایک بھائی دادا کی زندگی ہی میں فوت ہوگئے تھے۔ اُن کے بچے ساری زندگی دادا کے گھر اور زمین پر رہتے رہے۔ ہم چار بہنیں ہیں اور ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے۔ والد صاحب ایک سال پہلے وفات پا گئے۔ اب ہم بہنوں میں سے صرف ایک بہن حیات ہیں۔
تایا کے بیٹوں نے والد صاحب کی زندگی میں بھی اور اُن کی وفات کے بعد بھی کبھی ہمارا حال تک نہیں پوچھا، لیکن اب وہ جائیداد کی تقسیم بھی نہیں ہونے دے رہے۔ کیا اُن کا ہمارے والد کے ترکے میں کوئی حصہ بنتا ہے؟
ہم دو غیر شادی شدہ بہنیں اپنی والدہ کے ساتھ خود زندگی گزار رہی ہیں، تو کیا ہمیں پورا حصہ نہیں ملنا چاہیے تاکہ ہم اپنا گزارا کرسکیں؟
وہ تایا زاد بھائی جو ساری زندگی دادا کی جائیداد سے فائدہ اٹھاتے رہے، اور اب کہتے ہیں کہ ہم اُن کی کچھ نہیں لگتیں، پھر وہ حصے دار کیوں ہیں؟
سائل کے دادا مرحوم کی اولاد میں سے جس بیٹے کا انتقال دادا مرحوم کی زندگی میں ہوچکا تھا، وہ شرعاً مرحوم کے ترکے میں حصے دار نہیں تھا، چنانچہ اب اس بیٹے کی اولاد بھی شرعاً دادا مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہیں ہوگی، تاہم سائلہ کے والدِ مرحوم کا انتقال چونکہ اپنے والد(دادا مرحوم) کی وفات کے بعد ہوا ہے،اس لیے سائلہ، اس کی والدہ اور بہنیں اپنے والدِ مرحوم کے توسّط سے دادا مرحوم کے ترکے میں شرعاً حصہ دار ہوں گی، جس کا طریقہ کار ورثاء کی تفصیل اور ان کے وفات پانے کی ترتیب اور تاریخ ذکر کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ: يشترط لثبوت الحق في الميراث ثلاثة شروط: وهي موت المورث، وحياة الوارث، ومعرفة جهة القرابة... 2 - حياة الوارث: لا بد أيضا من تحقق حياة الوارث بعد موت المورث، إما حياة حقيقية مستقرة أو إلحاقه بالأحياء تقديرا. الحقيقية: هي الحياة المستقرة الثابتة للإنسان المشاهدة له بعد موت المورث. والتقديرية: هي الحياة الثابتة تقديرا للجنين عند موت المورث، فإذا انفصل حيا حياة مستقرة لوقت يظهر وجوده عند موت المورث، ولو كان حينئذ مضغة أو علقة، ثبت له الحق في الميراث، فيقدر وجود حياته بولادته حيا.(7707/10، ط:دار الفكر)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2