السلام علیکم!جنابِ عالی! میرا نام محمد ہارون ولد محمد یوسف ہے، جناب میرے پانچ بچے ہیں، جس میں تین لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں، میری خالہ زاد بہن کے گھر کوئی اولاد نہیں تھی، تو میں نے اپنی خالہ زاد بہن کو اپنی پانچ نمبر کی بیٹی پیدا ہوتے ہی ہسپتال سے اس کو دے دی بغیر کسی لکھت پڑھت کے، اور 3 سال گزر گئے، جب مجھے 3 سال بعد یہ علم ہوا کہ اس لڑکی کی ولدیت پر میرا نام ہونا چاہیے، تو میں نے اپنی بہن اور بہنوئی سے بات کی تو وہ اس بات پر راضی نہیں کہ ولدیت محمد ہارون کی ہو، میری بہن (نوشی) اور میرا بہنوئی (رئیس خان) میری بیٹی (دعا) سے بہت پیار کرتے ہیں، اور اسے بہت لاڈ لوں سے پال رہے ہیں، جناب، اگر اسلام میں یہ کوئی نرمی ہے کہ ولدیت رئیس خان کی بھی ہو سکتی ہے تو مجھے اس پر فتویٰ دیں، اور اگر ولدیت میری ہی چلے گی تو رئیس خان کو اس بات پر آمادہ کروائیں، وہ اس بات سے منع کر رہا ہے، اور وہ مجھ سے یا میری بیوی سے بچی کو ملواتے بھی نہیں ہے۔
واضح ہو کہ لے پالک بچے/بچی کے تمام تر کاغذات میں اسے حقیقی والد ہی کی جانب منسوب کرنا شرعاً لازم اور غیر حقیقی فرد ( یعنی پالنے والے) کی طرف اس کی نسبت کرنا شرعاً ناجائز و حرام فعل ہے، لہٰذا سائل کے بہنوئی کے لیے اس بچی کی ولدیت کو اپنی طرف منسوب کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ سرپرست کے خانہ میں وہ اپنا نام درج کر سکتا ہے،جبکہ اس بچی کی ملاقات سے حقیقی والدین کو محروم کرنا یا روکنا بھی درست طرزِ عمل نہیں، بلکہ والدین کو اپنی اولاد سے دور رکھنے کی کوشش ہے جو شرعاً بھی جائز نہیں، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
كماقال الله تعالى في القرآن المجيد:ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ(سورة الاحزاب:٥)
وفي احكام القران للقرطبى:وقال النحاس: هذه الآية ناسخة لما كانوا عليه من التبني وهو من نسخ السنة بالقرآن فأمر أن يدعوا من دعوا إلى أبيه المعروف فإن لم يكن له أب معروف نسبوه إلى ولائه فإن لم يكن له ولاء معروف قال له يا أخي يعني في الدين قال الله تعالى: (إنما المؤمنون إخوة) اھ (سورة الاحزاب:٥،ج:١٤،ص:١١٩،ط:دار الكتب المصرية)
وفي صحيح البخارى: عن أبي ذر رضي الله عنه:أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (ليس من رجل ادعى لغير أبيه - وهو يعلمه - إلا كفر، ومن ادعى قوما ليس له فيهم نسب، فليتبوأ معقده من النار).(كتاب المناقب، باب: نسبة اليمن إلى إسماعيل،ج:٢،ص:٢،مط:البشرى)
وفی مشکاۃ المصابیح:وعن أبي أيوب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من فرق بين والدة وولدها فرق الله بينه وبين أحبته يوم القيامة» . رواه الترمذي والدارمي اھ(باب النفقات وحق المملوك،ج:٢،ص:٢٩١،ط:قديمى كتب خانه)
وفي عمدةالقارى:قوله: (ادعى) أي: انتسب لغير أبيه(الى قوله) والحال أنه يعلم أنه غير أبيه، وإنما قيد بذلك لأن الإثم يتبع العلم(الى قوله) فالوجه على عدم هذه اللفظة أن المراد بالكفر: كفران النعمة، أو لا يراد ظاهر اللفظ، وإنما المراد المبالغة في الزجر والتوبيخ، أو المراد أنه فعل فعلا يشبه فعل أهل الكفر، والوجه على تقدير وجود هذه اللفظة فهو أن يحمل على أنه إن كان مستحلا مع علمه بالتحريم اھ(باب نسبة اليمن إلى إسماعيل صلى الله عليه وسلم،ج:١٦،ص:٧٩،ط:التراث)