محترم جناب مولانا صاحب ! السلام علیکم!
جناب گزارش یہ ہے کہ میں نے بھائی کا بچہ تین دن کا لیا تھا میری کوئی اولاد نہیں ہے، اس کے تمام ڈاکو منٹ میں میرے نام پر بن چکے ہیں ۔ (1) اس کو آج تک معلوم نہیں کہ میرا حقیقی والد کون ہے ؟ اس کو پتا چلے گا تو شاک لگے گا۔
(2) اس کے نکاح کے کاغذوں میں میرانام رہے گا یا حقیقی والد کا؟
(3) کاغذات تبدیل کرنے میں عمر بیت جاتی ہے۔اس کا حل بتا ئیں۔
لے پا لک کی ولدیت کی نسبت اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کرنا شرعاً نا جائز اور حرام ہے ۔ لہذا سائل پر لازم ہے کہ وہ لے پالک سے متعلق تمام دستاویزات بشمول نکاح کے کاغذات میں موجود ولدیت کے خانے میں اس کے حقیقی والد کا نام دررج کروائے اور اس کو حقیقی والد کی نسبت سے پکارا اور لکھا جائے اور اب تک لا علمی کی وجہ سے جو غلطی ہوتی رہی ہے ، اس پر بصدق ِدل توبہ و استغفا کرتے ہو ئے آئندہ اس حوالہ سے احتیاط سے کام لیں ۔
جبکہ سوال میں مذکور خدشات اگرچہ درست ہوں ، لیکن یہ ولدیت بدلنے کا عذر نہیں بن سکتے، لہذا سائل کو چاہیئے کہ وہ اپنے بھتیجے کو حکمت عملی کے ساتھ مناسب وقت پر حقائق سے آگاہ کرے اور ان کے تمام ڈاکو منٹ میں ولدیت کے جگہ پر ان کے حقیقی والد کا نام درج کروائے، اسی میں ہی بہتری ہے، البتہ کاغذات میں سر پرست کے خانہ میں سائل اپنا نام لکھ سکتا ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔
کما قال اللہ تعالی: و ما جعل ادعیاءکم ابناءکم ط ذلکم قولکم بأفواھکم ط و اللہ یقول الحق و ھو یھدی السبیل ادعوھم لآباھم ھو اقسط عند اللہ ج فان لم تعلموا اٰباءھم فاخوانکم فی الدین الآیۃ
و فی احکام القرآن للجصاص تحت الآیۃ: (و ما جعل ادعیاء کم ابناءکم) قیل نزل فی زید بن حارثۃ و کان النبی ﷺ قد تبناہ فکان یقولہ زید بن محمدؐ (الی قولہ) و قولہ تعالی (ذلکم قولکم بافواھکم ) یعنی انہ لا حکم لہ و انما ھو قول لا معنی لہ ولا حقیقۃ و قولہ تعالی (ادعوھم لآباھم ھو اقسط عند اللہ الآیۃ ) فیہ إباحۃ اطلاق اسم الأبوۃ من غیر جھۃ النسب و لذالک قال أصحابنا فیمن قال لعبدہ ھو اخی لم یعتق اذا قال لم اراد بہ الاخوۃ من النسب (الی قولہ) قال اخبرنا معمر عن قتادۃ فی قولہ تعالی (و لیس علیکم فی جناح فیما اخطأتم بہ) قال قتادۃ لو دعوت رجلاً بغیر ابیہ و انت تری انہ ابوہ لیس علیک بأس و سمع عمر بن الخطاب رجلاً و یقول اللھم اغفرلی خطایای فقال استغفر اللہ فی العمد فاما الخطأ فقد تجوز عنک الخ۔ ( سورۃ الاحزاب، آیۃ: 4، ج: 3، ص: 354، ط: سہیل اکیڈمی )۔
وفی الصحیح للبخاری: عن سعد رضي الله عنه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام. فذكرته لأبي بكرة فقال: وأنا سمعته أذناي ووعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم الخ۔(باب من ادعی إلی غیر أبیہ ج:4، ص: 2972، ط: البشری)۔