مسئلہ یہ ہے کہ میں جب نو ماہ کی تھی، میرے اصل والدین نے مجھے میرے تایا ابو کو دے دیا تھا۔ اس کے بعد سے میرا نام میرے تایا کے ساتھ ہی لکھا جانے لگا، میرا برتھ سرٹیفکیٹ، میرا تعلیمی ریکارڈ، میٹرک 2008، جامعہ بنوریہ سے حفظ و عالمہ کا کورس 2006، جبکہ ایف اے 2011 اور بی اے 2013، سب ریکارڈ ان کے نام سے تھا۔ میں نے مدرسہ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے والد کا نام تبدیل کرنے مشورہ ایک استاذ صاحب سے کیا تو ان کے کہنے کے مطابق میرے تایا کا نام میرے ساتھ ہونا غلط ہے اور شرعی طور پر یہ گناہ ہے، ولدیت تبدیل نہیں ہوسکتی، لیکن اس پر میرے بھائی کے ناراض ہونے کی وجہ سے میرے گھر والوں نے میری بات نہیں مانی۔پھر جب میری شادی 2013 کو ہوئی، تو نکاح خواں سید۔۔۔۔صاحب نے نکاح پڑھانے کے وقت میرے والد صاحب سے کہا کہ نکاح تایا کے نام سے نہیں ہوسکتا، یہ گناہ ہے، ان کا نام زیرِکفالت میں لکھا جائے گا۔جبکہ اصل والد کے نام سے نکاح پڑھایا جائے گا، یوں میری تمام اسناد تایا کے نام سے اور میرا نکاح نامہ نادرا میں بھی اصل والد کے نام سے ہے۔ اب یہ مسئلہ میری آگے کی زندگی میں بھی ہے۔ جہاں میری اسناد کی ضرورت پڑے گی تو دونوں مختلف ہونے کی وجہ سے مسئلہ بنے گا۔ اس وجہ سے میں نے اپنے اصل والد کا نام اپنے ساتھ منسلک کرنے کےلئے عدالت سے رجوع کیا۔ اب مجھے اس بارے میں یہ فتویٰ چاہیئے کہ اصل ولدیت کو تبدیل کرنا گناہ ہے اور دوسرے والد کے نام کے ساتھ نام نہیں لگانا چاہیئے، تاکہ میں وہ فتویٰ عدالت میں پیش کرسکوں اور اپنے اصل والد کے نام کے ساتھ اپنے نام کو درست کرواسکوں۔ شریعت میں اس کا جو حکم ہے وہ معلوم ہے، کہ یہ گناہ ہےتو اس سے مجھے اپنے اوپر ایک بوجھ محسوس ہوتا ہے کہ ایک غلط کام ہے۔ لہٰذا اسے درست کرواکے اللہ کے سامنے سرخرو ہونا چاہتی ہوں۔
واضح ہو کہ کسی بچے بچی کو گود لے کر اس کی پرورش کرناشرعاً جائز ، بلکہ کارِ ثواب ہے، لیکن اس بچے یا بچی کو حقیقی والد کی بجائے پرورش کرنے والے کی طرف منسوب کرنااور اس سے متعلقہ سرکاری و غیر سرکاری کاغذات میں ولدیت کے خانہ میں حقیقی والد کے بجائے پرورش کرنے والے کا نام لکھوانا ازروئے قرآن و حدیث حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں جب سائلہ کے سرکاری و غیر سرکاری کاغذات میں ولدیت کے خانہ میں پرورش کرنے والے تایا ابو کا نام لکھا گیا اور اب کاغذات میں ترمیم اور تبدیلی ممکن ہو، تو ایسی صورتِ حال میں ان کاغذات میں ترمیم کرکے ولدیت کے خانے میں حقیقی والد کا نام درج کرنا لازم اور ضروری ہوگا۔ اور آئندہ کے لئے بھی سائلہ کےلئے لازم ہے کہ وہ اپنے تمام سرکاری و غیر سرکاری کاغذات میں اپنے حقیقی والد کا نام ہی درج کروائےاور اپنے تایا ابو کا نام درج کروانے سے احتراز کرے۔ بصورتِ دیگر گناہِ کبیرہ کی مرتکب ہوگی۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص: (أدعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ) الآیۃ، فیہ اطلاق اسم الأخوۃ و حظر اسم الأبوۃ من غیر جھۃ النسب و لذالک قال أصحابنا فی من قال لعبہ ھو أخی لم یعتق إذا قال لم أرد بہ الأخوۃ من النسب لأن ذالک یطلق فی الدین و قال ھو ابنی عتق لأن اطلاقہ ممنوع إلا من جھۃ النسب و روی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم أنہ قال من ادعی إلی غیر أبیہ و ھو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام إلخ۔ (ج 2، ص 354، ط: سہیل اکیڈمی)۔
و فی تفسیر ابن کثیر: (أدعوھم لأبائھم ھو أقسط عند اللہ) ھذا أمر ناسخ لما کان فی ابتداء الاسلام من جواز ادعاء الأبناء الأجانب و ھم الأدعیاء، فأمر تبارک و تعالی برد نسبھم إلی آبائھم فی الحقیقۃ، و إن ھذا ھو العدل و القسط و البر۔ قال البخاری رحمہ اللہ (إلی قولہ) عن عبد اللہ بن عمر قال: إن زید بن حارثۃ رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ما کنا ندعوہ إلا زید بن محمد حتی نزل القرآن (أدعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ)۔ الآیۃ۔ (ج 3، ص 610، ط:دارالفکر)۔
و فی الصحیح للبخاری: باب من ادعی إلی غیر أبیہ: عن سعد قال سمعت النبی صلی اللہ علیہ و سلم یقول من ادعی إلی غیر أبیہ و ھو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام۔ الحدیث۔ (ج 2، ص 1001، ط: قدیمی کتب خانہ)۔