لے پالک کے احکام

ولدیت کے خانے میں تایا ابو کا نام لکھنے کے بعد کاعذات میں تبدیلی کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
89386
| تاریخ :
2025-12-01
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / لے پالک کے احکام

ولدیت کے خانے میں تایا ابو کا نام لکھنے کے بعد کاعذات میں تبدیلی کرنے کا حکم

مسئلہ یہ ہے کہ میں جب نو ماہ کی تھی، میرے اصل والدین نے مجھے میرے تایا ابو کو دے دیا تھا۔ اس کے بعد سے میرا نام میرے تایا کے ساتھ ہی لکھا جانے لگا، میرا برتھ سرٹیفکیٹ، میرا تعلیمی ریکارڈ، میٹرک 2008، جامعہ بنوریہ سے حفظ و عالمہ کا کورس 2006، جبکہ ایف اے 2011 اور بی اے 2013، سب ریکارڈ ان کے نام سے تھا۔ میں نے مدرسہ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے والد کا نام تبدیل کرنے مشورہ ایک استاذ صاحب سے کیا تو ان کے کہنے کے مطابق میرے تایا کا نام میرے ساتھ ہونا غلط ہے اور شرعی طور پر یہ گناہ ہے، ولدیت تبدیل نہیں ہوسکتی، لیکن اس پر میرے بھائی کے ناراض ہونے کی وجہ سے میرے گھر والوں نے میری بات نہیں مانی۔پھر جب میری شادی 2013 کو ہوئی، تو نکاح خواں سید۔۔۔۔صاحب نے نکاح پڑھانے کے وقت میرے والد صاحب سے کہا کہ نکاح تایا کے نام سے نہیں ہوسکتا، یہ گناہ ہے، ان کا نام زیرِکفالت میں لکھا جائے گا۔جبکہ اصل والد کے نام سے نکاح پڑھایا جائے گا، یوں میری تمام اسناد تایا کے نام سے اور میرا نکاح نامہ نادرا میں بھی اصل والد کے نام سے ہے۔ اب یہ مسئلہ میری آگے کی زندگی میں بھی ہے۔ جہاں میری اسناد کی ضرورت پڑے گی تو دونوں مختلف ہونے کی وجہ سے مسئلہ بنے گا۔ اس وجہ سے میں نے اپنے اصل والد کا نام اپنے ساتھ منسلک کرنے کےلئے عدالت سے رجوع کیا۔ اب مجھے اس بارے میں یہ فتویٰ چاہیئے کہ اصل ولدیت کو تبدیل کرنا گناہ ہے اور دوسرے والد کے نام کے ساتھ نام نہیں لگانا چاہیئے، تاکہ میں وہ فتویٰ عدالت میں پیش کرسکوں اور اپنے اصل والد کے نام کے ساتھ اپنے نام کو درست کرواسکوں۔ شریعت میں اس کا جو حکم ہے وہ معلوم ہے، کہ یہ گناہ ہےتو اس سے مجھے اپنے اوپر ایک بوجھ محسوس ہوتا ہے کہ ایک غلط کام ہے۔ لہٰذا اسے درست کرواکے اللہ کے سامنے سرخرو ہونا چاہتی ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی بچے بچی کو گود لے کر اس کی پرورش کرناشرعاً جائز ، بلکہ کارِ ثواب ہے، لیکن اس بچے یا بچی کو حقیقی والد کی بجائے پرورش کرنے والے کی طرف منسوب کرنااور اس سے متعلقہ سرکاری و غیر سرکاری کاغذات میں ولدیت کے خانہ میں حقیقی والد کے بجائے پرورش کرنے والے کا نام لکھوانا ازروئے قرآن و حدیث حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں جب سائلہ کے سرکاری و غیر سرکاری کاغذات میں ولدیت کے خانہ میں پرورش کرنے والے تایا ابو کا نام لکھا گیا اور اب کاغذات میں ترمیم اور تبدیلی ممکن ہو، تو ایسی صورتِ حال میں ان کاغذات میں ترمیم کرکے ولدیت کے خانے میں حقیقی والد کا نام درج کرنا لازم اور ضروری ہوگا۔ اور آئندہ کے لئے بھی سائلہ کےلئے لازم ہے کہ وہ اپنے تمام سرکاری و غیر سرکاری کاغذات میں اپنے حقیقی والد کا نام ہی درج کروائےاور اپنے تایا ابو کا نام درج کروانے سے احتراز کرے۔ بصورتِ دیگر گناہِ کبیرہ کی مرتکب ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی أحکام القرآن للجصاص: (أدعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ) الآیۃ، فیہ اطلاق اسم الأخوۃ و حظر اسم الأبوۃ من غیر جھۃ النسب و لذالک قال أصحابنا فی من قال لعبہ ھو أخی لم یعتق إذا قال لم أرد بہ الأخوۃ من النسب لأن ذالک یطلق فی الدین و قال ھو ابنی عتق لأن اطلاقہ ممنوع إلا من جھۃ النسب و روی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم أنہ قال من ادعی إلی غیر أبیہ و ھو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام إلخ۔ (ج 2، ص 354، ط: سہیل اکیڈمی)۔
و فی تفسیر ابن کثیر: (أدعوھم لأبائھم ھو أقسط عند اللہ) ھذا أمر ناسخ لما کان فی ابتداء الاسلام من جواز ادعاء الأبناء الأجانب و ھم الأدعیاء، فأمر تبارک و تعالی برد نسبھم إلی آبائھم فی الحقیقۃ، و إن ھذا ھو العدل و القسط و البر۔ قال البخاری رحمہ اللہ (إلی قولہ) عن عبد اللہ بن عمر قال: إن زید بن حارثۃ رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ما کنا ندعوہ إلا زید بن محمد حتی نزل القرآن (أدعوھم لآبائھم ھو أقسط عند اللہ)۔ الآیۃ۔ (ج 3، ص 610، ط:دارالفکر)۔
و فی الصحیح للبخاری: باب من ادعی إلی غیر أبیہ: عن سعد قال سمعت النبی صلی اللہ علیہ و سلم یقول من ادعی إلی غیر أبیہ و ھو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنۃ علیہ حرام۔ الحدیث۔ (ج 2، ص 1001، ط: قدیمی کتب خانہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89386کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ایدھی سے لاوارث بچہ گودلے کر اس کی پرورش کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   لے پالک کے احکام 1
  • لے پالک بھتیجے کی ولدیت میں اپنانام لکھوانا

    یونیکوڈ   اسکین   لے پالک کے احکام 0
  • لےپالک بچہ پرورش کرنے والی عورت کےلئے محرم ہوگایا نہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   لے پالک کے احکام 0
  • کسی کا بچہ لے کر پالنا شادی کرانا اور جائیداد میں حصہ دلوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کی ولدیت میں کس کا نام لکھا جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 2
  • گود لئے بچے کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے ؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • زنا سے پیدا شدہ بچے کی لے پالک اولاد کے طور پر پروش کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 1
  • لے پالک بیٹے کی وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 2
  • لے پالک اولاد کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹے کو واپس لینے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بچہ کو ساری جائیداد دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹی کے نکاح میں حقیقی والد کا نام نہ لینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کی ولدیت میں کسی اور کا نام لکھوانا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • پرورش کرنے والے کا نام بطور ولدیت لکھنے کے لیے گواہی دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک لڑکی کے نکاح میں کس کی ولدیت لکھوائی جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • متبنی بچے کے والد کے خانہ میں کس کا نام لکھنا ضروری ہے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کے ولدیت میں مربی کا نام لکھوانا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • بھتیجے کو لے پالک بیٹے کے طور پر پالنے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • ربیبہ کو اپنا نام دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بچے کو اپنی طرف منسوب کرنا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • ولدیت کے خانے میں تایا ابو کا نام لکھنے کے بعد کاعذات میں تبدیلی کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کو محرم بنانے کا طریقہ

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹا-بیٹی کے احکام

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کے احکام کے متعلق

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
Related Topics متعلقه موضوعات