السلام علیکم، مفتی صاحب ! ایک مسئلہ آپ سے دریافت کرنا ہے کہ میرے نانا جان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں تھیں، نانا جان نے اپنی ساری جائیداد اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کے نام لگوا دی ، ایک بیٹی کی اجازت تھی اور دوسری بیٹی کی اجازت نہیں تھی، پہلے نانا جان فوت ہو گئے ، بعد میں دونوں بیٹیاں فوت ہو گئیں، جس بیٹی نے اجازت نہیں دی تھی، اس کی اولاد اپنے ماموں سے اپنے حق کا مطالبہ کر سکتی ہیں یا نہیں ؟ شرعی مسئلہ کیا ہے؟ وضاحت فرما دیں۔
واضح ہو کہ کوئی چیز کسی کے فقط نام کردینے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی، جب تک وہ باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ اسے حوالہ نہ کی جائے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کے نانا مرحوم نے اپنی جائیداد اپنے بیٹے کے فقط نام کی تھی، اسے اس جائیدد پر باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ نہیں دیا تھا تو مرحوم کا بیٹا شرعاً اس جائیداد کا مالک نہیں بناتھا، بلکہ وہ ساری جائیداد سائل کے نانا مرحوم کی وفات تک اسی کی ملکیت رہی جو کہ اب ان کے انتقال کی صورت میں ان کے ورثاء( ایک بیٹے اور دو بیٹیوں) کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم ہوگی، جس کا طریقہ کار ورثاء کی تفصیل اور ان کی وفات کی ترتیب ذکر کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
ففي البحر الرائق: «قَيَّدَ بِقَوْلِهِ لَك لِأَنَّهُ لَوْ قَالَ جَعَلْته بِاسْمِك لَا يَكُونُ هِبَةً وَلِهَذَا قَالَ فِي الْخُلَاصَةِ لَوْ غَرَسَ لِابْنِهِ كَرْمًا إنْ قَالَ جَعَلْته لِابْنِي تَكُونُ هِبَةً وَإِنْ قَالَ بِاسْمِ ابْنِي لَا تَكُونُ هِبَةً وَلَوْ قَالَ أَغْرِسُ بِاسْمِ ابْنِي فَالْأَمْرُ مُتَرَدِّدٌ وَهُوَ إلَى الصِّحَّةِ أَقْرَبُ اهـ» (7/ 285)
وفي حاشية ابن عابدين: «وقوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة؛ ولهذا قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، ولو قال: أغرس باسم ابني، فالأمر متردد، وهو إلى الصحة أقرب اهـ» (5/ 689)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2