السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ میں کہ میرے والد صاحب فوت ہوگئے ہیں اور ورثا میں سے میں(محمد شعیب) میری حقیقی ماں اور سوتیلی ماں ہیں لیکن میری حقیقی والدہ نےاپنے بھائی سے ملکر میرے والد کے گھر اور موٹر سائیکل پر قبضہ کر لیا ہے، آپ سے معلوم کرنا ہے کہ کیا میں وارث نہیں ہوں شریعت کے مطابق؟ مجھے فتوی دیں! فقط
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کی والدہ اپنے مرحوم شوہر کے ترکہ پرقابض ہوکر ورثاء کو ان کا شرعی حصہ نہ دے رہی ہو،تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں،بلکہ غصب کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے جس پر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذا سائل کی والدہ پرلازم ہے کہ مرحوم شوہر کے ترکہ پر قبضہ جمانے کے بجائے تمام ورثاء(بشمول سائل اور مرحوم کی دوسری بیوہ کے) میں تقسیم کرکے ہر ایک وارث کو اس کاشرعی حق دیکر اس فریضہ سے سبکدوشی حاصل کرے، بصورتِ دیگر ورثاء اپنے حق کی وصولیابی کے لئےقانونی چارہ جوئی بھی کرسکتے ہیں۔
کمافی القرآن المجید:يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ (الی قولہ) وَلَكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٰجُكُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّكُمۡ وَلَدٞۚ فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ (سورۃ النساء،آیۃ نمبر 12)
وفی مسند ابی یعلی: عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه(ج:3،ص:149،رقم الحدیث:1570،مط: دار المأمون للتراث)
وفی مسند احمد:عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه دخل على عائشة وهو يخاصم في أرض، فقالت عائشة: يا أبا سلمة، اجتنب الأرض، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " من ظلم قيد شبر من الأرض، طوقه يوم القيامة من سبع أرضين(ج:40،ص:612،رقم الحدیث: ٢٤٣٥٣،مط: مؤسسة الرسالة)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0