ابتدائی حمل میں پلیسینٹا پریویا (Placenta Previa) کی وجہ سے بیوی کو بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا گیا تھااس حالت سے پہلے بیوی الگ گھر کا مطالبہ کرتی تھی کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ مشترکہ خاندانی نظام (جوائنٹ فیملی) میں اسے ذہنی سکون نہیں ملتا اور اس کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔
اسی بنیاد پر شوہر نے بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کی بات کی، لیکن بعد میں معافی تلافی بھی کر لی۔ اس کے باوجود بیوی کا اعتماد اور دل ٹوٹ گیا۔ شادی کو ابھی صرف پانچ ماہ ہوئے ہیں اور بیوی تین ماہ کی حاملہ ہے۔
بیوی اپنے والدین کے گھر آ جاتی ہے۔ وہاں ڈاکٹر سے معائنہ کروانے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسےپلیسینٹا پریویا (Placenta Previa)ہے، جس کی وجہ سے اسے مکمل بیڈ ریسٹ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
بیوی شوہر سے کہتی ہے کہ آپ کے گھر میں کمرہ اوپر ہے اور کچن نیچے، اس لیے وہاں میرے لیے بیڈ ریسٹ کرنا ممکن نہیں، لہٰذا میں ابھی اپنے والدین کے گھر ہی رہنا چاہتی ہوں۔ اس بات پر دونوں کے درمیان کچھ اختلاف ہو جاتا ہے۔
شوہر اپنے گھر والوں سے مشورہ کرتا ہے اور ڈاکٹر کی طرف سے دی گئی تین ہفتوں کی بیڈ ریسٹ کے دوران بیوی کو اس کے والدین کے گھر ہی رہنے دیتا ہے۔ شوہر بیوی کے بھائی سے بھی ملاقات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ "ٹھیک ہے، وہ ابھی وہیں رہ لے۔"
تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی معاملہ حل نہیں ہوتا اور ڈاکٹر مزید دو ہفتے کی بیڈ ریسٹ تجویز کر دیتے ہیں۔ اس دوران بیوی نے شوہر کے حقوقِ زوجیت ادا کیے، لیکن شوہر کی طرف سے اس کا نان و نفقہ ادا نہیں کیا گیا۔ اسی دوران رمضان المبارک بھی گزر جاتا ہے۔
جب ڈاکٹر کی طرف سے بیوی کی حالت بہتر قرار دی جاتی ہے تو بیوی عید سے پہلے واپسی کی بات کرتی ہے، لیکن شوہر اسے واپس لے جانے سے انکار کر دیتا ہے۔ عید کے بعد بھی ایک ماہ گزر جاتا ہے، مگر شوہر یا اس کے گھر والوں کی طرف سے بیوی کو واپس لانے کی کوئی کوشش یا بات نہیں کی جاتی۔اس صورتِ حال میں شرعی حکم کیا ہے؟ کیا بیوی نافرمان (ناشزہ) شمار ہوگی؟کیا ایسی صورت میں شوہر پر بیوی کا نان و نفقہ واجب نہیں رہے گا؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں اس مسئلے کا شرعی فتویٰ بیان فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور خاتون چونکہ شوہر کی اجازت ورضامندی سے بیماری کے دنو ں میں اپنے والدین کے ہاں بیڈ ریسٹ کے لیے رہ رہی تھیں اورافاقہ ہوجانے کے بعد شوہر کے ہاں جانے کے لیے تیار ہے لیکن شوہر لے جانے سے انکار کرتا ہے تو اس کی وجہ سے مذکور خاتون نافرمان شمار نہیں ہوگی،اور شوہر پر باقاعدہ اس کا نان و نفقہ بھی لازم ہوگا ۔ تاہم جتنے ایام والدین کے ہاں رہائش اختیار کرتے ہوئے باقاعدہ شوہر سے نان ونفقہ کا مطالبہ اور اس کی مقدار کا تعین نہیں ہوا ہو تو بیوی ان گزشتہ ایام کے نان ونفقہ کا مطالبہ نہیں کرسکتی ہے، البتہ بقیہ ایام کے نان ونفقہ کا مقدار باقاعدہ متعین کر نے کے بعد عدمِ ادائیگی کی صورت میں بیوی اس کے مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہوگی۔
کمافی الدر المختار:(فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس الخ(باب النفقۃ،ج:3،ص: 572،مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:ولو هي في بيت أبيها) إذا لم يطالبها الزوج بالنقلة به يفتى؛ وكذا إذا طالبها ولم تمتنع أو امتنعت (للمهر أو مرضت في بيت الزوج) فإن لها النفقة استحسانا لقيام الاحتباس الخ(باب النفقۃ،ج:3،ص: 575،مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض(باب النفقۃ،ج:3،ص: 594،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ:وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه بخلاف ما لو امتنعت عن التمكن في بيت الزوج لأن الاحتباس قائم حتى، ولو كان المنزل ملكها فمنعته من الدخول عليها لا نفقة لها إلا أن تكون سألته أن يحولها إلى منزله أو يكتري لها منزلا، وإذا تركت النشوز فلها النفقة، ولو كان يسكن في أرض الغصب فامتنعت منه لها النفقة كذا في الكافي(الفصل الأول في نفقة الزوجة،ج:1،ص:545،مط: المطبعة الكبرى الأميرية)