والدہ کے انتقال کو 14 سال گزر چکے ہیں۔ ان کے ورثاء میں شوہر، 3 بیٹے اور 1 بیٹی ہیں۔ بچے سب شادی شدہ ہیں، خاتون کی وراثت میں سونا تھا، انتقال کے کچھ وقت بعد اس میں سے ایک بریسلیٹ ایک بیٹے نے اور ایک انگوٹھی دوسرے بیٹے نے اپنے حصے کے عوض لے لی تھی، اور باقی کے بارے میں کہا تھا کہ والد کی مرضی جو فیصلہ کریں، اس بات پر تمام ورثاء کی رضامندی شامل تھی،والد کو شرعی تقسیم کا علم نہیں تھا، اس وجہ سے وہ تقسیم نہیں کر سکے اور اسے بیڈ کے نیچے اسٹوریج میں رکھوا دیا کہ بعد میں دیکھیں گے، اتنے سالوں تک اس سونے کی کوئی زکوٰۃ ادا نہیں کی گئی اور اسے استعمال بھی نہیں کیا گیا،اب جبکہ والد کی صحت اچھی نہیں رہتی، اس لیے کمرے سے بیڈ ہٹایا گیا تو بیڈ اسٹوریج میں سے سونا نکلا، والد کو تھوڑا ذہنی اور یادداشت کا مسئلہ بھی رہتا ہے، تو اب ان کے تمام کام اور معاملات کے فیصلے ان کے بڑے بیٹے کرتے ہیں، ان کے تینوں بیٹے یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس سونے میں سے مزید کچھ نہیں چاہیے اور ابو کے لیے بھی ضرورت نہیں ہے، اور انہوں نے باقی سارا سونا بیٹی کو دے دیا ہے۔
1۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تقسیم ٹھیک ہے؟ اور بیٹی کو کیا کرنا چاہیے؟
2۔ سوال یہ ہے کہ اتنے عرصے تک جو سونا رکھا رہا، اس پر ان 14 سال کی زکوٰۃ ہوگی؟ بیٹی کیا کرے؟
صورت مسئولہ میں والدہ مرحومہ کے انتقال کے بعد جو کچھ تركہ زیور کی صورت میں انہوں نے چھوڑا تھا، اس مىں سے اگر دو بیٹوں نے مذکور اشیاء لے کر اپنے حصہ سے دستبردار ہو چکے ہوں، تو ان کا یہ عوض لینا درست تھا، اور اب ان کا بقیہ سونے سے حق ميراث ختم ہو چکا ہے، جس کے مطالبہ کا اب انہیں اختیار نہیں، البتہ جس بھائی اور بہن نے عوض نہیں لیا اس سونے میں، وہ اپنے والد کے ساتھ اپنے حصہ شرعیہ کے بقدر شریک تھے، اگر اس سونے سے حصہ نہ لىنے والے بھائی اور والد نے باہمی رضامندی سے بشرطیکہ باقاعدہ مالکانہ وقبضہ كے ساتھ ىہ تمام سونا بیٹی کو دے دیا ، تو یہ ان کی جانب سے گفٹ شمار ہو کر اپ بیٹی اس تمام زیور کی مالک بن چکی ہے، لہذا اس پر آئندہ دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ اس زیور کی زکوۃ بھی ادا کرنی لازم ہوگی، جبکہ تقسىم سے پہلے جس قدر عرصہ اس زىور پر گزر چکا ہے اس عرصہ کی زکوۃ ورثاء پر لازم نہىں۔
كما في الدر المختار: ثم شرع في مسألة التخارج فقال (ومن صالح من الورثة) والغرماء على شيء معلوم منها (طرح) أي اطرح سهمه من التصحيح وجعل كأنه استوفى نصيبه (ثم قسم الباقي من التصحيح) أو الديون (على سهام من بقي منهم) اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (ثم شرع في مسألة التخارج) تفاعل من الخروج وهو في الاصطلاح تصالح الورثة على إخراج بعضهم عن الميراث على شيء من التركة عين أو دين قال في سكب الأنهر وأصله ما روي أن عبد الرحمن بن عوف - رضي الله تعالى عنه - طلق في مرض موته إحدى نسائه الأربع ثم مات وهي في العدة فورثها عثمان - رضي الله تعالى عنه - ربع الثمن فصالحوها عنه على ثلاثة وثمانين ألفا من الدراهم وفي رواية من الدنانير وفي رواية ثمانين ألفا وكان ذلك بمحضر من الصحابة من غير نكير اهـ [كتاب الفرائض، باب المخارج، ج:6 ص:811 ط: سعيد)]
وفي الفتاوى الهندية: وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابا ويحول عليه الحول. [كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1 ص:175 ط: رشيدية)]
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2