اگر والد کی زندگی میں بیٹی فوت ہو جائے توکیا اس کے بچے حصہ لے سکتے ہیں ؟
جس بیٹی کا انتقال اپنے والد کی زندگی میں ہوجائے تو دیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں مرحومہ بیٹی کی اولاد اپنے ناناکے ترکہ میں شرعا حصہ دارنہیں ہوگی اور نہ ہی انھیں ورثاء سے ترکہ میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے ، البتہ اگر ورثاء اپنے حصص میں سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ، اور باعث اجر وثواب بھی ہے ، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
کمافی المبسوط للسرخسی: وانما تحقق الوجوب له عند الموت ولان المانع صفة ولا يعرف ذلك الا عند الموت لان صفة الوراثة لا تكون الا بعد بقاء الوارث حيا بعد موت المورث اھ (باب الوصية للمورث الخ،ج:27،ص:176،ط:اسلامية)
وفی رد المحتار: وشروطه ثلاثة موت مورث حقيقة او حكما كمفقود او تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة او تقديرا كالحمل والعلم بجهة ارثه اھ (كتاب الفرائض،ج:6 ص:758،ط:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2