السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ہمارے والد صاحب کا انتقال 20 سال قبل ہو ا تھا ان کے ورثا میں 6 بچے اور والدہ ہیں اس وقت سے ان کی متروکہ جائداد صرف دو وارثین ہی استعمال کر رہے ہیں اور اس کو شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم نھیں کر رہے ان کا یہ عمل کیسا ہے اور کیا ان سے تقسیم کا مطالبہ کرنا درست ہے ؟
واضح ہوکہ مورث کے انتقال کے بعدورثاء میں سے کسی ایک یا چندورثاء کا کل ترکہ پر قبضہ کرکے بقیہ حقداروں کو ان کا حق نہ دینا سراسر ظلم، ناانصافی اور غصب پر مبنی عمل ہے،جس پر قرآن وحدیث میں سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا صورت ِمسئولہ میں صرف دو وارثوں کا پوری متروکہ جائیدا د پرقبضہ جما رکھنا ناجائز اور حرام ہے،جس کی وجہ سے وہ گنہگار ہورہے ہیں اس لیے ان دونوں پر لازم ہے کہ مرحوم کے ترکہ پر قبضہ جمانے کے بجائے تمام ورثاء اس ترکہ میں سے ان کا حصہ شرعیہ دیکر اس فریضہ سے سبکدوشی حاصل کرے، بصورتِ دیگر ورثاء کو اپنے حق کی وصولیابی کے لئےقانونی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہوگا۔
کمافی مسند احمد:عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه دخل على عائشة وهو يخاصم في أرض، فقالت عائشة: يا أبا سلمة، اجتنب الأرض، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " من ظلم قيد شبر من الأرض، طوقه يوم القيامة من سبع أرضين(ج:40،ص:412،رقم الحدیث: ٢٤٣٥٣،مط: مؤسسة الرسالة)
وفی الدر المختار: لا یجوز التصرف فی مال غیرہ بلا إذنہ (کتاب الغصب، ج 9، ص 291، ط: دار الکتب العلمیۃ)-
وفی الشامیۃ: لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي (باب التعزیر،ج: 4، ص: 61، ناشر: سعید)-
وفی الھندیۃ: إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق اھ(فصل فی التعزیر،ج: 2، ص: 167، ناشر: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار:(وهي ضربان: شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا الخ(کتاب الشرکۃ،ج:4،ص:299،مط: مصطفى البابي الحلبي)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0