محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عرض ہے کہ بخت وڈی کے پہلے شوہر نور عالم سے ایک بیٹا حاجی سلطان احمد تھا، نور عالم کے انتقال کے بعد بخت وڈی نے موسیٰ سے نکاح کیا، جس سے تین اولادیں ہوئیں: 1۔رمضان (مرحوم) 2۔ بخت بی بی (مرحوم)3۔حیات (زندہ) ، حاجی سلطان احمد مرحوم کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ ان کی کوئی اولاد، والدین یا بیوی حیات نہیں تھی۔ وفات کے وقت درج ذیل افراد موجود تھے: حیات (ماں شریک بھائی)، نذیر احمد (موسیٰ کی پہلی بیوی سے بیٹا)، عیسیٰ موسیٰ کا بھائی ہے، اس کے بیٹے عبدالغفار، عبدالستار، خدایار موجود ہیں ،جبکہ اس کی بیٹیاں بھی ہیں۔
وراثت اس طرح تقسیم کی گئی کہ: حیات کو حصہ دیا گیا، نذیر احمد کو حصہ دیا گیا، عیسیٰ کے بیٹوں کو حصہ دیا گیا، لیکن عیسیٰ کی بیٹیوں کو حصہ نہیں دیا گیا۔ براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ: 1) کیا حاجی سلطان احمد مرحوم کلالہ کے حکم میں آتے ہیں؟ 2) اس صورت میں اصل شرعی وارث کون ہیں؟ 3) کیا مذکورہ تقسیم شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو صحیح شرعی تقسیم کیا ہوگی؟جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ جو شخص اس حالت میں وفات پاجائے کہ اس کے اصول (والدین) اور فروع (اولاد) میں سے کوئی موجود نہ ہو، تو اسے کلالہ کہا جاتا ہے، شرعاً ایسے شخص کے ترکہ کی تقسیم کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کے ماں شریک بہن یا بھائی میں سے صرف ایک موجود ہو تو اسے ترکہ کا ایک سدس (1/6) حصہ ملتاہے اور اگر ماں شریک بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو وہ سب مل کر ایک ثلث (1/3) حصےمیں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اس کے بعد باقی مال عصبات کو دیا جاتاہے، اور اگر عصبات بھی موجود نہ ہوں تو باقی مال ذوی الفروض کی طرف رد کیا جاتاہے، بشرطیکہ رد کے مستحق موجود ہوں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں حاجی سلطان احمد مرحوم کلالہ کے حکم میں ہےاور ان کےترکہ میں ان کے ماں شریک بھائی حیات کے علاوہ کوئی ایسا وارث موجود نہیں جو ترکہ میں شرعاً مستحقِ میراث ہو،چنانچہ حیات کو بحیثیت ماں شریک بھائی ترکہ کا ایک سدس حصہ ملے گا، اور چونکہ عصبات اور دیگر مستحقینِ میراث موجود نہیں، اس لیے باقی ترکہ بھی رد کے طور پر حیات ہی کو واپس ملے گا۔ نتیجتاً حاجی سلطان احمد مرحوم کے پورے ترکہ کا شرعی حق دار صرف ان کے ماں شریک بھائی حیات ہیں۔
جبکہ نذیر احمد ،عیسیٰ کے بیٹے اور بیٹیاں، حاجی سلطان احمد مرحوم کے شرعاً وارث نہیں ہیں ،لہذا انہیں مرحوم کے ترکہ میں سے کسی حصے کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں، چنانچہ اگر غلط فہمی یا کسی اور وجہ سے مرحوم کے ترکہ میں سے کوئی مال ان افراد کو پہنچ گیا ہو تو وہ حیات کا شرعی حق ہے؛ لہٰذا وہ مال حیات کو واپس کرنا لازم ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ فی کلامہ المجید: وَإِن كَانَ رَجُلٞ يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمۡرَأَةٞ وَلَهُۥٓ أَخٌ أَوۡ أُخۡتٞ فَلِكُلِّ وَٰحِدٖ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُۚ فَإِن كَانُوٓاْ أَكۡثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمۡ شُرَكَآءُ فِي ٱلثُّلُثِۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصَىٰ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍ غَيۡرَ مُضَآرّٖۚ وَصِيَّةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٞ ◌ (سورۃ النساء، آیۃ: 12)
وفی السراجی فی المیراث: واما لاولاد الام فاحوال ثلاث: السدس للواحد، والثلث للاثنین فصاعداً، ذکورھم واناثھم فی القسمۃ والاستحقاق سواء، ویسقطون بالولد و ولد الابن وان سفل وبالاب، والجد بالاتفاق۔ (ص: 30، مکتبۃ البشریٰ)
وفی الدر المختار: (فيبدأ بذوي الفروض) أي السهام المقدرة وهم اثنا عشر من النسب ثلاثة من الرجال وسبعة من النساء واثنان من التسبب وهما الزوجان (ثم بالعصبات) أل للجنس فيستوي فيه الواحد والجمع وجمعه للازدواج (النسبية) لأنها أقوى (ثم بالمعتق) ولو أنثى وهو العصبة السببية(ثم عصبته الذكور) لأنه ليس للنساء من الولاء إلا ما أعتقن (ثم الرد) على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم،الخ (كتاب الفرائض، ج: 6، ص: 762۔764، مط: سعید کراچی)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0