ہمارے والد صاحب نے شادی کے چند سالوں کے اندر اپنی جائیداد میں سے ایک مارکیٹ جس کا ماہانہ کرایہ آتا ہے ، ہماری والدہ کو ہبہ کردی تھی جو کہ ابھی تک انہی کے نام ہے ، جب ہمارا سب سے بڑا بھائی یونیورسٹی میں داخل ہوا تو والد صاحب نے اپنی جائیداد میں سے ایک مکان بیچ کر اس کو نئی گاڑی نکلوا کر دی ، جو ان کے زیر استعمال و قبضہ ہے اور ہم دو بھائیوں کو جن کو گاڑی چلانا آتی ہے کبھی چلانے کے لیے دے دیتے ہیں لیکن واپسی پر چابی لے لیتے تھے ، دوسرا اس بڑے بھائی نے اپنی شادی کے بعد والد صاحب کی اجازت سے ان کے ایک پلازے کا کل کرایہ وصول کرنا شروع کردیا جن میں سے نصف کرایہ وہ اپنے پا س رکھ لیتے تھے اور نصف والدہ یا والد کو دے دیتے ، اور انہوں نے گھر کے پڑوس میں والد صاحب کے ایک اور مکان کو بطور اپنے ذاتی بزنس بھی اپنے پاس رکھ لیا ہے ، اس پلازہ کے گراؤنڈ فلور میں دوکانیں تھیں، تین مین روڈ پر اور باقی پلازہ کے اندر اور اوپر کی دو منزلوں میں اسکول تھا جن کا کرایہ وصول کیا جاتا تھا ، پھر کچھ عرصہ بعد اسکول کے کرایہ دار سے اوپر کی دو منزلیں خالی کرواکر وہاں انہیں نے اپنا ذاتی اسکول کھول لیا اور نیچے کی دوکانیں جو کہ پلازہ کے اندر تھیں وہاں بھی دوکانیں خالی کرواکر اپنے زیر قبضہ کرلیں اور اسکول و سافٹ ویئر کا کام کرنے لگے ، صرف فرنٹ کی تین دوکانیں بچ گئیں جن کا وہ نصف کرایہ والد یا والدہ کو دیتے ہیں ، یہ سب کچھ بظاہر والد صاحب کی اجازت سے ہی کر رہے تھے ، اب بھائی صاحب پڑوس والے مکان پر قابض ہیں ، اور پلازہ کے 80 یا 90 فیصد پر بھی قابض ہیں ، او گاڑی بھی انہیں کے پاس ہیں ، اس دوران باقی جتنی جائیداد ہیں ، اس کا کرایہ دو سے تین سال تک میں وصول کرتا رہا اور درمیان میں کچھ عرصہ او را ب بھی ایک اور بڑے بھائی وصول کرتے ہیں اور وہ اس سے گھر کو چلاتے ہیں مطلب سودا سلف ، گیس بجلی کے بل وغیرہ وغیرہ، مطلب کل جائیداد کا کرایہ ایک عرصہ سے والد صاحب وصول نہیں کر رہے بوجہ اپنے ضعف کے (ان کی عمر 86 سال ہے لیکن با ہوش ، با حواس ، تندرست ہے چلتے پھرتے ہیں نماز بھی کھڑے ہوکر پڑھتے ہیں ۔
نوٹ: اوپر کے یہ سب کام والد والدہ کی اجازت ہی سے ہو رہے ہیں ، ایک دن ضرورت پڑنے پر والدہ اور والد صاحب کی موجود گی میں ،میں نے سب سے بڑے بھائی سے پڑوس والا مکان مانگا جوکہ اب بند ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے لڑکر لے لو ، مفتی صاحب ! میں اپنے والد کو انصاف کا کہتاہو ں اور و ہ کہتے ہیں کہ تم بھائی بہن آپس میں برابر تقسیم کرلو ، میری طرف سے اجازت ہے لیکن دونوں بڑے بھائی تقسیم نہیں کرتے ، بڑا بھائی کبھی کیا بہانہ کرتا ہے کبھی کیا ، کبھی کہتا ہے والد صاحب کے انتقال کے بعد تقسیم ہوجائے گی اور کبھی کہتا ہے کہ میں تقسیم کرتا ہوں جب امی کے نام جو مارکیٹ ہے اس کو بھی تقسیم میں شامل کرو ، یا مجھے فلانا پلاٹ مدرسہ یا مسجد کے لیے بھی دو وغیرہ وغیرہ ، ان سے چھوٹا بھائی جوکہ مجھ سے بڑا ہے، وہ کہتا ہے کہ تقسیم کی ضرورت نہیں ہے، بس اتفاق سے رہو ، جیسا چل رہا ہے چلنے دو ، اور جائیداد کی قیمتوں پر ہم میں سے کسی کا اتفاق نہیں ہوتا ، تو پوچھنا یہ ہے کہ میرے والد صاحب کے لیے ، والدہ سب بھائی بہنوں کے یہ کام شریعت کی نظر میں درست ہیں ، ہمیں شریعت کیا رہنمائی دیتی ہے ، شریعت ہمیں کیا بتا تی ہے کہ تقسیم کا مرحلہ وار طریقہ کار کیا ہوگا ؟ کیا سب سے بڑے بھائی کی آمدنی درست ہے جو اس طرح قابض ہیں ، جبکہ ابو کہتے ہیں کہ تقسیم کرلو ، لیکن بوجہ ضعف ان کی نہیں چلتی ، اور میں قرض دار ہوچکا ہوں، میرے حالات اللہ تعالی ہی جانتے ہیں ، مجھے والدہ کہتی ہیں کہ فلانے دکانوں یا مکانوں کا کرایہ تم لے لو لیکن میں نہیں لیتا ، اور میں جواب دیتا ہوں کہ میرا چھوٹا بھائی اور بہن بھی ہے ان کو بھی دیں ، اگر میں ان مکانوں ، دکانوں کا کرایہ لے لوں تو ان چھوٹوں کے ساتھ زیادتی ہوگی ، آپ ان سب باتوں کا مفصل جواب دے دیں تاکہ یہ معاملات ہم سب اپنے اپنے شرعی حکم جان کر درست کرسکیں ۔
صورت مسئولہ میں ذکر کردہ بیان اگر درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے بھائیوں کا مذکور طرز عمل شرعاً ناجائز اور ظلم پر مبنی ہے ، سائل کے بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ والد کی جائیداد ان کی ہدایت کے مطابق تمام بہن بھائیوں میں برابر تقسیم کریں ، سائل کے بھائیوں کا والد کی مرضی کے خلاف والد کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنا اور دیگر بہن بھائیوں کو محروم کرکے جائیدادوں کا کرایہ وصول کرنا قطعا جائز نہیں جس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہو رہے ہیں ، جبکہ سائل کے والد نے مارکیٹ اور گاڑی اگر سائل کی والدہ اور بھائی کو مالکانہ حقوق اور کامل قبضے و تصرف کے ساتھ دی ہو با یں معنی کہ وہ دونوں اگر ان اشیاء کو خود اپنی ذاتی ضرورت کے لیے بیچنا چاہیں تو اس کا اختیار رکھتے ہوں تو ایسی صورت میں وہ انہی کی ملکیت شمار ہوگی ، اسے دیگر مال و جائیداد کے ساتھ اب دوبارہ تقسیم نہیں کیا جائے گا، لہذا سائل کے بھائی کا والدہ کو ہبہ کی گئی مارکیٹ کی تقسیم کے ساتھ دیگر جائیداد کی تقسیم کو مشروط کرنا شرعا درست نہیں جس سے اسے احتراز لازم ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامةالخ (باب الوصایا، الفصل الثالث،ج:١،ص: ٢٦٦،ط: قدیمی كتب خانه)۔
وفي التاترخانية : وأما شرائط صحتها فأنواع ،أما في الموهوب فهو أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما اذا كان ما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب (كتاب الهبة ، ج: ١٤، ص؛ ٤١٢،ناشر ؛ حقانية )
وفي الدر المختار مع التنوير الأبصار: وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.اھ(کتاب الہبۃ، ج:٥، ص: ٦٩٦، مط: سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2