السلام علیکم!
ہمارا گھر آج سے تقریباً دس سال پہلے بکا تھا خریدنے والا چھوٹا بھائی ہے اس وقت والد حیات نہیں تھے اور امی نے اپنی خوشی سے چھوٹے بھائی کو بیچا تھا ہم بہن بھائیوں میں سے کچھ راضی نہیں تھے اور کچھ راضی تھے بعد میں جو راضی نہیں تھے وہ بھی راضی ہو گئے اصل میں اس ٹائم پر ہمارے گھر کی قیمت چالیس سے پچاس لاکھ لگ رہی تھیں لیکن یہ چھوٹا بھائی اتنی قیمت میں لینا نہیں چاہتا تھا تو اس نے بتیس لاکھ قیمت لگائی تو میری اماں اس پر بھی راضی ہو گئی، فی الحال میرے بھائی نے ہمیں گھر خریدنے کے کوئی آٹھ سال کے عرصے میں حصہ دیا ہے ،کسی کو تین سال کسی کو چار سال کسی کو چھ سال اور مجھے آٹھ سال بعد حصہ دیا، اب ظاہر ہے کہ مختلف وقت میں دیے ہوئے حصے کی رقم بھی وقت کے ساتھ بڑھ رہی تھی، لیکن اس بھائی نے جس قیمت پر گھر خریدا تھا دس سال پہلے اس نے اسی کے مطابق قیمت ادا کی چاہے جتنے سال بعد بھی کی اور ہم بھی اس وقت اس سب پر راضی تھے، وہ خود اس گھر میں نہیں رہتا تھا، میری امی اور بڑا بھائی جس کی شادی نہیں ہوئی وہ دونوں رہتے تھے، گھر کے باہر چار دکانیں ہیں ،ایک دکان گھر خریدنے سے پہلے کرایے پر چل رہی تھی جس کا کرایہ میری امّاں کو آتا تھا، باقی تین دکانیں گھر خریدنے کے بعد چھوٹے بھائی نے بنوائی اور کرایے پر دی ہیں ان کا کرایہ وہی لیتا ہے جس وقت والد کا انتقال ہوا، تین بہنیں اور یہی والا بھائی کنوارہ تھا، جس نے گھر خریدا اس کا یہ کہنا ہے ،کہ میں نے تینوں بہنوں کی شادی کی ہے جبکہ ہماری اماں نے شروع سے جاب کی ہے اور کنواری بہن بھی جاب کرتی تھی ، والد کے انتقال کے بعد ایک بہن اور اسی چھوٹے بھائی کی شادی بھی میری والدہ کے پیسوں سے ہوئی ،کیونکہ یہ چھوٹا بھائی بےروزگار تھا، شادی کے ایک سال تک بےروزگار رہا ہے پھر ایک اور بہن کی شادی ہوئی اس میں میری چھوٹی بہن جاب کرتی تھی، والدہ نے چھوٹی بہن جو جاب کرتی تھی ،اسی کی تنخواہ سے بی سی وغیرہ ڈال کر دوسری بہن کی شادی کی اور اب جو آخری بہن سب سے چھوٹی رہ گئی تھی، اس کی شادی کا خرچہ آدھا اسی کی تنخواہ سے والدہ نے بی سی وغیرہ ڈال کر کیا اور آدھا چھوٹے بھائی نے کیا جس نے گھر خریدا ہے جب کہ اب وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تینوں بہنوں کی شادی میں نے کی ہے گھر خریدنے سے اب تک ان دس سالوں کے عرصے میں کوئی بھی کاغذی کارروائی نہیں ہوئی نہ ہی کسی بہن یا بھائی کا این آئی سی وغیرہ کچھ بھی نہیں لیا، لیکن ایک دو بار میری امی نے بتایا تھا، کہ وہ چھوٹا بھائی جس نے گھر خریدا ہے اور اس کی بیوی یہ دونوں میری والدہ کو کہی لے کر گئے تھیں، یہ بات میں نے بھائی اور بھابھی سے پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، ہم نے کوئی بھی کاغذی کارروائی نہیں کی بھائی نے بتایا کہ گھر خریدنے اور اس کے بعد جس کو بھی رقم دی کوئی بھی کاغذی کارروائی نہیں کی ہے جب کہ میری والدہ نے یہ بات بتائی تھی ،کہ وہ بھائی اور اس کی بیوی کہیں لے کر گئے تھے اور انگھوٹا وغیرہ کسی پیپر پر لگوایا ہے ہم میں سے کسی نے بھی کوئی گھر کے کاغذ نہیں دیکھے کہ آیا اس پیپر میں کیا لکھا ہے، کیا نہیں لکھا ہے، اور وہاں جب گھر خریدا تو چھوٹے بھائی نے کہا کہ جب تک اماں اور یہ بڑا بھائی حیات ہیں تب تک یہ دونوں اسی گھر میں رہیں گے، کیونکہ میری والدہ نے اور بڑے بھائی نے اپنا حصہ اسی چھوٹے بھائی کے پاس رکھا ہے، وہ بھائی ابھی اسی گھر میں رہتے ہیں ان سب باتوں کے بعد ہمارا سوال یہ ہے ہمیں ہمارا حصہ صحیح طرح دیا گیا ہے یا حق تلفی ہوئی ہے اب جبکہ ہماری والدہ حیات نہیں ہیں تو ان کا حصہ ان کے حصے کے کون حق دار ہیں ؟شکریہ
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کی والدہ اور بہن بھائیوں نے جب باہمی رضامندی سے ترکے کا مکان اپنے چھوٹے بھائی کو فروخت کیا تو ایسی صورت میں چھوٹے بھائی نے اگرچہ قیمت کی ادائیگی بروقت نہ کی بلکہ وقتا فوقتا بہن بھائیوں کو مقررہ قیمت ادا کردی ہو ، تب بھی شرعا چھوٹا بھائی اس پورے مکان کا مالک بن چکا ہے، اب اسمیں سائلہ یا اس کے دیگر بہن بھائیوں کا شرعا کوئی حصہ نہیں، لہذا سائلہ یا اس کے دیگر بہن بھائیوں کے لیئے کاغذی کاروائی نہ ہونے کو بنیاد بناکر یا حق تلفی کا عذر کرکے مذکور مکان میں حصہ داری کا دعوی کرنا شرعا ناجائز اور حرام عمل ہے، اس لیئے تمام بہن بھائیوں پر لازم ہے کہ اس طرح ناجائز دعاوی کے ذریعے اپنے چھوٹے بھائی کو پریشان کرنے سے اجتناب کرکے مؤاخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں۔
جبکہ سائلہ کی والدہ نے بھی اگر مذکور مکان میں سے اپنا حصہ چھوٹے بھائی کو فروخت کردیا تھا ( جیسا کہ سوال سے واضح ہے) تو مذکور مکان میں تو ان کا حصہ باقی نہ رہا، البتہ اگر مرحومہ نے بوقت انتقال اپنے ترکے میں کچھ چھوڑا ہو، یا چھوٹے بھائی کہ ذمہ مکان کے حصے کی مد میں قیمت واجب الاداء ہو تو وہ بھی مرحومہ کا ترکہ شمار ہوگا،جو کہ تمام بہن بھائیوں میں حسب حصص شرعی تقسیم کیا جائے گا،جسکا طریقہ بوقت ضرورت ورثاء کی تفصیل ذکر کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کما فی القرآن الکریم: لذکر مثل حظ الانثیین ( سورۃ النساء، آیت نمبر: 11)
و فی فتاوی الفقہ الاسلامی: وفى الفتاوى الهندية لو استقرض حنطة فأعطى مثلها بعد ما تغير سعرها يجبر المقرض على القبول ( حکم قضاء دین القرض، ج:21، ص: 199، ط: وزارت الاوقاف مصر)
وفی رد المحتار تحت قولہ(وخرج علیہ سعدی) فإذا استقرض مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا، وأما بدون ذلك فهو ربا ( مطلب فی استقراض الدراھم، ج: 5، ص: 177، ط: سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2