مرحوم شخص "X" ہے۔
"X" کے والدین زندہ نہیں ہیں (انتقال ہو چکا ہے)۔
"X" کی بیوی بھی زندہ نہیں ہے (انتقال ہو چکا ہے)۔
"X" کی دو بیٹیاں زندہ ہیں۔
"X" کی ایک بہن زندہ ہے۔
"X" کا ایک بھائی تھا جو "X" کی وفات سے 10 سال پہلے فوت ہو چکا تھا۔
اس مرحوم بھائی کی ایک بیٹی (بھتیجی) اور ایک بیٹا (بھتیجا) زندہ ہیں۔
اسلام کے مطابق اس وراثت کا کیا حکم ہوگا؟
جزاک اللہ خیراً!!
جس وارث کا انتقال مورث کی زندگی میں ہو جائے وہ شرعاً اس کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں حصہ دار نہیں بنتا، چنانچہ صورت مسئولہ میں بھائى کا انتقال چونکہ مرحوم کی زندگی میں ہوگیا تھا، لہٰذا وہ اس کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہوگا، اسى طرح اس كے بھائى كى اولاد كو بھى كچھ نہىں ملے گا كىونكہ مرحوم کے موجوده ورثاء مىں اس كى بہن موجود ہے، جو كہ مرحوم كى بىٹىوں کے ساتھ ملكر عصبہ بنے گی، بىٹىوں كو ان كا شرعى حصہ دىنے كے بعد بقیہ مال کی حقدار وہی ہن ہوگی، تاہم اگر ورثاء مرحوم بھائی کی اولاد کو اپنی مرضی و خوشی سے کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل تىن (3) حصے بنائے جائیں،جن میں سےہربیٹى كو اىك (1) حصے، اور بہن كو بھى اىك (1) حصےدیےجائیں۔
كما في رد المحتار: والمراد بالفرائض السهام المقدرة كما مر فيدخل فيه العصبات، وذو الرحم لأن سهامهم مقدرة وإن كانت بتقدير غير صريح، وموضوعه: التركات، وغايته: إيصال الحقوق لأربابها، وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه اهـ [كتاب الفرائض، ج:6 ص:758 ط: سعيد)
وفي رد المحتار أيضاً: اعلم أن للأخوات لغير أم سبعة أحوال خمسة تتحقق في الأخوات لأبوين، والأخوات لأب: وهي الثلاثة المارة في بنات الصلب، والرابعة: أنهن يصرن عصبات مع البنات أو بنات الابن اهـ [كتاب الفرائض، ج:6 ص:772 ط: سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2