کیا بیمار شخص فدیہ کی رقم لوگوں کو روزہ افطار کرنے کے لیے لگا سکتا ہے۔ کیا یہ جائز ہوگا؟اور اسکا فدیہ ادا ہوجائے گا؟
واضح ہو کے فدیہ کی رقم کسی مستحق زکوۃ شخص کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دینا لازم اور ضروری ہے ،اس کے بغیر فدیہ ادا نہ ہوگا ،لہذا اگر کوئی بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہواور آئندہ بھی صحت یابی کی امید نہ ہو جس کی وجہ سے وہ فدیہ دے رہا ہو تو اس کی ذمہ فدیہ کی رقم یا فدیہ کی رقم سے خریدی گئی اشیاء (اناج وغیرہ )کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو مالکانہ طور پر دینا لازم اور ضروری ہوگا ،کسی مستحق زکوٰۃکو فدیہ مالکانہ طور پر دینے کی بجائے روزہ داروں کو افطار کرانے کے لیے رقم دینےسے فدیہ ادا نہ ہوگا۔
کما فى الهندية:و مصرف هذہ الصدقة ما هو مصرف الزکاۃ.(الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج:١،ص:١٩٤)