ایک آدمی کا نتقال ہوا، جن کے ورثاء میں ایک بیوہ ، چار بیٹے ، اور تین بہنیں ہیں ، انتقال کے وقت والد کی جائیداد میں دو مکان کراچی میں ، دو دوکانیں پنجاب میں ، ایک پلاٹ اور زمین تھی مزید یہ کہ والد صاحب کی کرایہ کی دوکان میں کاروبار بھی تھا ، جس میں والد صاحب کے ساتھ دو بھائی بھی کام کرتے رہے، والد کے فوت ہونے کے وقت تقریباً اٹھائیس لاکھ قرض تھا ، ایک مکان بیچ کر وہ قرض ادا کیا گیا ۔فوت ہونے کے وقت کرایہ والی دوکان میں تقریباً پانچ لاکھ کا سامان بھی موجود تھا ، اور نو(9) لاکھ ایڈوانس بھی دیا ہوا ہے جو ابھی تک موجود ہے اس کے بعد اس دوکان کو دو بھائیوں نے مکمل محنت کرکے آگے بڑھایا اور اسی سے گھر کے اخراجات اور بہن بھائیوں کی شادیاں بھی کرائی گئیں، پھر ایک بھائی کو اسی (80)لاکھ روپے لگاکر دوکان بناکر دی ۔ اب مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ والد صاحب کے فوت ہونے کے بعد جن دو بھائیوں نے محنت کر کے کمایا اور اس میں سے پلاٹ یا کوئی چیز خریدی تو بقیہ بہن بھائیوں کا اس میں حصہ بنتا ہے کہ نہیں ؟ وہ اس دوکان پر کام نہیں کرتے تھے جو بھی محنت کی ان دو بھائیوں نے کی دوکان پر ۔
صورت مسئولہ میں والد مرحوم کے انتقال کے بعد انہی کے کاروبار کو جو کہ ترکہ تھا جب دو بھائیوں نے باقی ورثاء کی رضامندی سے اور یہ جانتے ہوئے کہ اس میں باقی ورثاء کا حصہ ہے، کاروبار کو تقسیم کرنے کے بجائے محنت کرکے آگے بڑھایا اور اسی سے مشترکہ اخراجات کیے گئے اور بہنوں کی شادیاں کرائی گئیں تو یہ کاروبار اور اس سے حاصل کیے گئے تمام منافع بشمول پلاٹ، دوکان یا کوئی بھی چیز یہ سب تمام ورثاء بہن بھائیوں میں حسب حصص ترکہ مشترک ہونگے اور یہ سب باپ کا ترکہ شمار ہوگا جوکہ تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔
کما فی رد المحتار: مطلب فيما يقع كثيرا في الفلاحين مما صورته شركة مفاوضة [تنبيه] يقع كثيرا في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارة يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافا لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له بل هي شركة ملك كما حررته في تنقيح الحامدية. ثم رأيت التصريح به بعينه في فتاوى الحانوتي، فإذا كان سعيهم واحدا ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركا بينهم بالسوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا كما أفتى به في الخيرية، وما اشتراه أحدهم لنفسه يكون له ويضمن حصة شركائه من ثمنه إذا دفعه من المال المشترك، وكل ما استدانه أحدهم يطالب به وحده.اھ(کتاب الشرکۃ، ج:٤، ص: ٣٠٧، مط: سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2