احکام وراثت

مشترکہ فیملی میں رہتے ہوئے اپنے پاس رکھے ہوئے پیسوں کا حکم

فتوی نمبر :
92317
| تاریخ :
2026-02-18
معاملات / ترکات / احکام وراثت

مشترکہ فیملی میں رہتے ہوئے اپنے پاس رکھے ہوئے پیسوں کا حکم

بخدمت مفتیانِ کرام دارالافتاء ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
گزارش ہے کہ ہم ایک مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family System) میں رہتے ہیں۔ ہم چار بھائی اور والدین ایک ہی گھر میں مقیم ہیں اور ہمارا کھانا پینا ایک ہی دسترخوان پر ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں درج ذیل شرعی مسائل کی وضاحت مطلوب ہے،
صورتِ حال: ہم چاروں بھائی محنت مزدوری اور ملازمت کرتے ہیں۔ ہم سب اپنی کمائی کا ایک حصہ گھر کے مشترکہ اخراجات اور کچن کے لیے والد صاحب کو دیتے ہیں، جبکہ باقی رقم ہم اپنے پاس رکھتے یا اپنے نام سے بچت کرتے ہیں۔ انتظامی طور پر ہم ایک ہی گھر میں ہیں اور چھوٹا بھائی والد کے ڈیٹا کارڈ میں شامل ہے، جبکہ دیگر کے کارڈز علیحدہ ہیں۔
سوالات:
1- شرعی طور پر ان چاروں بھائیوں کی ذاتی کمائی اور بچت کا مالک کون ہے؟ کیا انفرادی طور پر ہر بھائی اپنے مال کا مالک ہے یا مشترکہ رہائش اور ایک دسترخوان کی وجہ سے والد صاحب تمام بیٹوں کی کمائی کے مالک تصور ہوں گے؟
2- کیا کسی ایک بھائی کا مال کى زکاۃ باقی بھائیوں اور بہنوں کو لینا جائز ہو گا؟
3- کیا بھائیوں کی اس ذاتی کمائی میں بہنوں کا وراثت کے طور پر کوئی حق بنتا ہے؟
4- اگر بالفرض (خدا نخواستہ) والد صاحب کا انتقال ہو جائے، تو کیا وہ مال جو بیٹوں نے اپنی محنت سے کمایا اور بچایا ہے، وہ والد کا "ترکہ" (وراثت) شمار ہو کر تمام بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگا، یا وہ صرف کمانے والے بھائیوں کی اپنی ملکیت رہے گا؟
5- کیا ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھانے اور ایک گھر میں رہنے سے تمام بھائیوں کا مال "مشترکہ جائیداد" بن جاتا ہے جس میں بہنوں کا حصہ لازم ہو؟
براه کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں تاکہ خاندان میں مالی شفافیت رہے اور کسی کی حق تلفی نہ ہو۔جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مشترکہ اخراجات کے لیے دی گئی رقم کے علاوہ، جو رقم ہر بھائی انفراداً اپنی ذات کے لیے جمع کرتا ہے، تو ہر ایک بھائی اپنی بچت کا مستقل مالک ہے، اور نصاب کے بقدر ہونے کی صورت میں ہر ایک پر اپنی ملکیت کی زکوۃ بھی علىحده دینی لازم ہوگی، اس بچت کردہ رقم میں فقط جوائنٹ فیملی میں رہنے کی وجہ سے والد یا دیگر بہن بھائیوں کا کوئی حق نہیں، اور نہ ہی یہ بچت والد کا تركہ شمار ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في القرآن الکریم: ﴿وَلَا تَتَمَنَّوۡاْ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٞ مِّمَّا ٱكۡتَسَبُواْۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٞ مِّمَّا ٱكۡتَسَبۡنَۚ وَسۡـَٔلُواْ ٱللَّهَ مِن فَضۡلِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا﴾ [النساء: 32]
وفي تفسير روح المعاني: المروي عن أبي عبد الله وابن عباس رضي الله تعالى عنهم أن لكل فريق من الرجال والنساء نصيبا مقدرا في أزل الآزال من نعيم الدنيا بالتجارات والزراعات وغير ذلك من المكاسب فلا يتمن خلاف ما قسم له وسئلوا الله من فضله عطف على النهي بعد تقرير الانتهاء بالتعليل كأنه قيل: لا تتمنوا نصيب غيركم ولا تحسدوا من فضل عليكم واسألوا الله تعالى من إحسانه الزائد وإنعامه المتكاثر فإن خزائنه مملوءة لا تنفد أبدا اهـ [تفسير سورة النساء، الآية من (24 إلى 36) ج:3 ص:21 ط: دار الكتب العلمية بيروت)]
وفي مسند أحمد: عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: أتى أعرابي رسول الله ﷺ، فقال: إن أبي يريد أن يجتاح مالي؟ قال: " أنت ومالك لوالدك، إن أطيب ما أكلتم من كسبكم، وإن أموال أولادكم من كسبكم، فكلوه هنيئا " اهـ [‌‌مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما، رقم الحديث (6678) ج:11 ص:261 ط: الرسالة العالمية)]
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا باع الرجل على ابنه وهو كبير دارا أو متاعا من غير حاجة ولا عذر لم يجز ذلك عندنا وقال ابن أبي ليلى بيعه جائز (إلى قوله) وعندنا لا ملك له في مال ولده ولا حق ملك لأن الكسب إنما يملك بملك الكاسب وليس له في ولده ملك فكذلك في كسب ولده والدليل عليه أن الولد مالك لكسبه حقيقة حتى ينفذ تصرفه فيه من الوطء وغير ذلك وينفذ فيه إعتاقه، وإنما يخلف الكاسب غيره في الملك إذا لم يكن هو من أهل الملك اهـ [كتاب اختلاف أبي حنيفة وابن أبي ليلى، ج:30 ص:139 ط: مطبعة السعادة مصر)]
وفی درر الحکام في شرح مجلة الأحكام: لا يمنع أحد من التصرف في ملكه ما لم يكن فيه ضرر فاحش للغير وفي هذه الحالة يفصل في الفصل الثاني، ‌لا ‌يمنع ‌أحد ‌من ‌التصرف ‌في ‌ملكه ‌الخالص (التنوير في مسائل شتى القضاء) والملك المقصود هنا هو أعم من ملك الرقبة وملك المنفعة فيدخل في ذلك العقارات الموقوفة للسكنى أو للاستغلال(الحموی) اهـ (الکتاب العاشر الشرکات، ج: ٣، ص: ٢١٠، رقم المادۃ: ١١٩٧، مط: دارا لجيل)
وفي الأشباه والنظائر لابن نجيم: ‌لا ‌يجوز ‌التصرف ‌في ‌مال غيره بغير إذنه ولا ولاية إلا في مسألة في السراجية: يجوز للولد والوالد الشراء من مال المريض ما يحتاج إليه بغير إذنه اهـ [ كتاب الغصب، ص:243 ط: دار الكتب العلمية بيروت)]
وفی الفقہ علی المذااھب الاربعۃ: وقول ﷺ (كل أحد ‌أحق ‌بماله من ولده ووالده، والناس أجمعين) (مبحث اثاث القوانین الشرعیہ، ج: 5، ص: 358، ط: دارالکتب العلمیہ بیروت)
كما في الهداية: ولا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا من أي مال كان" لأن الغني الشرعي مقدر به والشرط أن يكون فاضلا عن الحاجة الأصلية وإنما النماء شرط الوجوب "ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من ذلك وإن كان صحيحا مكتسبا" اهـ (كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، ج:1 ص:112 ط: دار إحياء التراث العربي)
وفي الفتاوى الهندية: والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم ثم إلى ذوي الأرحام ثم إلى الجيران ثم إلى أهل حرفته ثم إلى أهل مصره أو قريته كذا في السراج الوهاج اهـ (كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1 ص:190 ط: رشيدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92317کی تصدیق کریں
1     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 1
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات