5 بہنیں، 1 بھائی۔ صرف ایک بہن اپنا حصہ مانگ رہی ہے، باقی افراد خاموش ہیں۔ کیونکہ بہنیں اسی گھر میں رہ رہی ہیں اور کرایہ کا گھر لینے کی استطاعت نہیں رکھتیں۔ شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟
واضح ہو کہ والدین کے ترکے میں جس طرح بیٹے حصہ دار ہوتے ہیں اسی طرح بیٹیاں بھی اپنے حصص کے بقدر حقدار ہوتی ہیں، لہذا صورت مسئولہ میں اگرچہ فقط ایک بہن کی طرف سے اپنے حصے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ،لیکن اگر ترکہ تقسیم کرنے میں ورثاء کو ضرر اور نقصان نہ ہو تو تمام ورثاء کو چاہیے کہ جلد از جلد ترکہ تقسیم کر کے ہر وارث کو اس کا حصہ حوالہ کیا جائے تاکہ بعد میں اختلافات اور تنازعات کی نوبت پیش نہ آئے۔
کمافی الدر المختار: (و قسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) و في الخانية : يقسم بطلب كل و عليه الفتوى،لكن المتون على الأول فعليها العول (و إن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض اھ (کتاب القسمۃ،ج:6،ص:260،ط:سعید)
وفی الفتاوى الھندية: وأما سببها فطلب الشركاء أو بعضهم الانتفاع بملكه على وجه الخصوص كذا في التبيين اھ(کتاب القسمۃ،ج:5،ص:204،ط:ماجدیۃ)
وفیھا ایضا: دار بين رجلين نصيب أحدهما أكثر فطلب صاحب الكثير القسمة وأبى الآخر فإن القاضي يقسم عند الكل وإن طلب صاحب القليل القسمة وأبى صاحب الكثير فكذلك وهو اختيار الإمام الشيخ المعروف بخواهر زاده وعليه الفتوى.اھ(کتاب القسمۃ، الباب الثالث في بيان ما يقسم و ما لا يقسم و ما يجوز من ذلك و ما لا يجوز،ج:5،ص:207،ط:ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2