میں آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ میرے والد نے وصیت کی تھی میرے وراثت میرے ورثہ میں برابر تقسیم ہو، تو اس کی شرعی تقسیم کیا ہوگی؟ میرے علم میں تو یہ ہے کہ 2 لڑکے کی اور 1لڑکی کی قرآن مجید میں جو وصیت کی ذکر ہے وہ وصیت ورثہ کے لیے ہوگی، کیا یہ جو وصیت کی تھی میرے والد نے تو اس کی شرعی حیثیت ہے؟ یا پھر جو 1لڑکی اور 2لڑکے میں تقسیم ہے آپ اس کی شرعی حیثیت بتادیں، تاکہ اللہ کی پکڑ نہیں ہو ۔
واضح ہو کہ ورثاء كے حق میں چونکہ وصیت شرعاً معتبر نہیں ہوتی، بالخصوص جب وہ شریعت کے موافق بھی نہ ہو، لہذا سائل کے والد کا سوال میں ذکر کردہ وصیت شرعاً معتبر نہیں، اور نہ ہی ورثاء کے ذمہ میں وصيت پر عمل کرنا لازم ہے، چنانچہ ورثاء اگر تركہ کی تقسیم اصول میراث کے موافق بیٹے اور بیٹی کے درمیان ایک اور دو کی بنسبت سے کرنا چاہیں ، تو کر سکتے ہیں، شرعًا اس میں کوئی مضائقہ نہیں، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے بیٹے اور بیٹی کے درمیان برابر تقسیم کرنا چاہے تو انہیں اس کا اختیار ہے، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
كما في التنزيل العزيز: ﴿يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ﴾ [النساء: 11]
وفيه أيضاً: ﴿وَإِن كَانُوٓاْ إِخۡوَةٗ رِّجَالٗا وَنِسَآءٗ فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ﴾ [النساء: 176]
وفي صحيح البخاري: عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: «كان المال للولد وكانت الوصية للوالدين فنسخ الله من ذلك ما أحب فجعل للذكر مثل حظ الأنثيين وجعل للأبوين لكل واحد منهما السدس وجعل للمرأة الثمن والربع وللزوج الشطر والربع.». [كتاب الوصايا، باب لا وصية لوارث، رقم الحديث (2747) ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر المحمية]
وفي الدر المختار: (وشرائطها (إلى قوله) كونه (غير وارث) وقت الموت اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وكونه غير وارث) أي إن كان ثمة وارث آخر وإلا تصح كما لو أوصى أحد الزوجين للآخر ولا وارث غيره كما سيجيء. [كتاب الوصايا، ج:6 ص:649 ط: سعيد)]
وفي بدائع الصنائع: (ومنها) أن لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فإن كان لا تصح الوصية لما روي عن أبي قلابة رضي الله عنه عن رسول الله ﷺ أنه قال «إن الله تبارك وتعالى أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث» وفي هذا حكاية (إلى قوله) فقد نفى الشارع عليه الصلاة والسلام أن يكون لوارث وصية نصا. الخ [كتاب الوصايا، الشرط الذي يرجع إلى الموصى له، ج:7 ص:337 ط: سعيد)]
وفي الدر المختار: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته اهـ (كتاب الوصايا، ج:6 ص:655و656 ط: سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2