کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم تین بھائی ،چھ بہنیں، والد اور والدہ ،سب ایک ساتھ رہتے تھے ،مجھے میرے سیٹھ نے پیسے دئیے جگہ خریدنے کیلئے تو میں نے ان پیسوں سے جگہ خریدی ،اور میرا ایک بھائی کچھ عرصہ ہمارے ساتھ رہ کر پھر اپنی فیملی کو ساتھ لے کر الگ ہوگئے ،اس کے بعد پھر والد صاحب کا انتقال ہوگیا، پھر جو بھائی الگ ہوا تھا، اسکا انتقال ہوا،اور چھ بہنوں کی شادیاں بھی ہوگئی ،اب ہم اس گھر میں صرف دو بھائی رہتے ہے اور میں نے یہ جگہ دوبارہ تعمیر کروائی اور 1400000 لاکھ روپے خرچ کئے، اب میری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے اور اب میں یہ جگہ بیچ رہا ہوں ،آپ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ سب کا کتنا حصہ بنتا ہے ؟ :1400000لاکھ،
نوٹ: سیٹھ نے مجھے پیسے دیتے وقت یہ کہا تھا کہ مکان اپنے نام پر کر لو ،لیکن اس وقت والد صاحب زندہ تھے تو میں نے اپنے نام کرنا مناسب نہیں سمجھا ،بلکہ والد کے نام کردیا ،اور تعمیر بھی میں نے والد کی وفات کے بعد کی ،
صورت مسؤلہ میں سائل نے مذکور مکان اگر فقط احتراماً والد کے نام کیا ہو، انہیں باقاعدہ مالک بنانے کا اس کا ارادہ نہ ہو ،تو ایسی صورت میں یہ گھر سائل ہی کا ہے،دوسرے بہن بھائی کا اس میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں ،تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال مکرر پوری وضاحت کے ساتھ لکھ کر جمع کرادیں تو ان شاء اللہ غور وفکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائیگا ۔
کما فی الدر: بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة وكذا هي لك حلال إلا أن يكون قبله كلام يفيد الهبة خلاصة،ج: 5،ص: 689۔)
و فی البحر: لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة،ج: 7،ص: 285۔)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2