میرا نام ثناء ہے ، میرے والد مرحوم نے میری شادی کے وقت ایک روپیہ بھی اپنے جیب سے نہیں دیا ، سب کچھ میرے شوہر نے کیا اور مجھے امریکہ لے گیا ، میرے والد مرحوم نے میری ہر خواہش پوری کی اور اپنی زندگی میں اپنا گھر میرے نام کردیا ، اس نے گفٹ کیا ، کیا اس گھر مین بھائیوں کا حصہ بنتا ہے ؟ اگر میرے والد نے گھر میرے نام کیا اورمیں بھائیوں کو ان کا حصہ دیتی ہوں ، مگر میں چاہتی ہوں کہ میری ماں کو پورا ایک حصہ ملے ، جتنا کے ایک بھائی کو ملتا ہے کیونکہ وہ بیوہ ہے بزرگ ہیں اور ان کی کوئی آمدنی بھی نہیں ہے ، کیا ایسا ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ گھر میرے نام پر ہے ، ابو نے اپنی زندگی میں میرے نام کیا تھا ، اور میں خود بھی ایسا چاہتی ہوں ،
نوٹ : جو گھر والد نے نام کردیا تھا خود والدین اسی گھر میں رہائش پزیر تھے اور اب والد کا انتقال ہوچکا ہے تو والدہ بیٹے کے گھر چکی گئی ہے ، ورثاء میں والدہ دو بھائی اور ایک میں خود موجود ہوں ،۔
صورت مسؤلہ میں سائلہ کے والد مرحوم نے اپنا رہائشی گھر کاغذات میں فقط سائلہ کے نام کیا ہو، اسے باقاعدہ قبضہ ومالکانہ تصرف کا اختیار نہ دیا ہو، تو ایسی صورت میں شرعا یہ ھبہ مکمل نہ ہوا تھا ، اور گھر بدستور والد مرحوم ہی کی ملکیت رہا جو اب ان کے انتقال کرجانے کی صورت میں تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوگا ، اور چونکہ بیوہ اولاد کی موجودگی میں شوہر کے ترکہ میں آٹھویں حصے کی حقدار ہوتی ہے، اس لیئے سائلہ کو جائز نہیں کہ وہ دیگر ورثاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر والدہ کے شرعی حق سے زائد حصہ انہیں حوالہ کردے البتہ اگر دیگر ورثاء اپنی رضامندی سے والدہ کو کچھ زیادہ دینا چاہیں یا سائلہ خود تقسیم کے بعد اپنا حصہ اپنے والدہ کو دینا چاہے تو اس کا انھیں اختیار ہے مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ۔
کما فی الددر المختار: ( و تتم ) الھبۃ بالقبض الکامل ( ولو الموھوب شاغلا للملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: سعید )
وفی الھندیہ: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ( الباب الاول فی تفسیر الھبۃ ، ج: 4 ، ص: 374، ط: ماجدیۃ )
و فی بدائع الصنائع: (ومنها) القبض وهو أن يكون الموهوب مقبوضا وإن شئت رددت هذا الشرط إلى الموهوب له لأن القابض والمقبوض من الأسماء الإضافية ( کتاب الھبۃ، ج: 6، ص: 123، ط: سعید )
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2