السلام علیکم! ہم چار بھائی ہیں۔ میرے والد صاحب کا ایک پلاٹ تھا، جس کے بارے میں وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ "اگر یہ مل گیا تو یہ تمہارا ہوگا"۔ یہ بات میرے والد میری فیملی کے سامنے بہت مرتبہ کہہ چکے تھے۔ اور اپنے انتقال سے کچھ روز قبل وہ اس پلاٹ کی اصل فائل میرے ہاتھ میں دے گئے۔ تو اب کیا اس پلاٹ میں میرے بھائیوں کا کوئی حصہ ہوگا یا نہیں؟ رہنمائی فرما دیجیے۔ جزاک اللہ خیرا.
سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی، کہ اس کے والد مرحوم کو اس کی زندگی میں اس پلاٹ پر قبضہ ملا تھا یا نہیں؟ تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جائے، تا ہم اگر سائلہ کے والد مرحوم نے فقط منہ زبانی مذکور پلاٹ سائلہ کے حوالہ کرنے کی صراحت کی ہو، اور اسے کاغذات حوالے کئیے ہوں، اور وہ پلاٹ اپنے قبضہ میں لے کر باقاعدہ سائلہ کو اس پر مالکانہ قبضہ نہ دیا ہو تو فقط کا غذات حوالہ کرنے سے سائلہ اس پلاٹ کی مالک نہیں بنی ، بلکہ وہ پلاٹ بدستور والد مرحوم ہی کی ملکیت شمار ہو کر تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگا۔
كما في الدر المختار: (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) (إلى قوله) و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.
وفيه أيضا: وفي النتف ثلاثة عشر عقدا لا تصح بلا قبض.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: وفي النتف ثلاثة عشر) أحدها: الهبة (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 690، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (والتمكن من القبض كالقبض فلو وهب لرجل ثيابا في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضا) لعدم تمكنه من القبض.اهـ (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 690، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.اهـ (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 696، ط: إيج إيم سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2