السلام علیکم ورحمۃاللہ ،محترم مفتی صاحب زید مجدکم!عرض ہے کہ ہمارے گاؤں، بلوجستان ضلع ،قلعہ عبداللہ میں تاریاق(افیون)کی کاشت بکثرت ہوتی ہے،اس بارے میں علاقے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں،بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ دواؤں میں استعمال ہوتی ہے، اس لئے کاشت جائز ہے،اور بعض حضرات کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ہمارے علاقے میں روزگار کے جائز مواقع موجود نہیں ہے،اس مجبوری کی بناء پر یہ کاشت کی جاتی ہے،اور بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں چند علماء نے بتایا ہے کہ اسمیں کوئی حرج نہیں،دریافت طلب امر یہ ہے کہ:کیا شریعتِ مطہرہ کی رو سے افیون کی کاشت اس کی خریدوفروخت،اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن جائز ہے یانہیں؟
واضح ہو کہ افیون کی تجارت اور کاشت کو حضرت امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ نے بالکل ناجائز قرار دیا ہے ،خصوصاً جبکہ اس وقت اس کا جائز استعمال نہ ہونے کے برابر ہے اور حکومت نے اس کی تجارت اور کاشت پر پابندی بھی عائد کی ہے،اور حکومت کی جائز پابندی پر عمل کرنا بھی واجب ہے اور اس کی خلاف ورزی ناجائز اور گناہ ہے، اس لئے افیون وغیرہ کی تجارت اور کاشت شرعاً بھی جائز نہیں، اس لئےاس سے مکمل طور پر اجتناب لازم ہے، تاہم اگر کسی نے افیون کو فروخت کر کےاس سے نفع حاصل کرلیا تو چونکہ فی الجملہ اس کا جائز استعمال ممکن ہے،لہٰذا اس کی آمدنی کو حرام نہیں کہا جائیگا،تاہم آئندہ اس کاروبار سے اجتناب کرے ۔
کما فی الدرالمختار: (ويحرم أكل البنج والحشيشة) هي ورق القتب (والأفيون) لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة (لكن دون حرمة الخمر، فإن أكل شيئا من ذلك لا حد عليه وإن سكر) منه (بل يعزر بما دون الحد) كذا في الجوهرة،الخ ( کتاب الاشربۃ،ج:6،ص:458،م:سعید)
وفیہ ایضاً: (وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل.الخ (کتاب الاشربۃ ،ج :6،ص : 454، م:سعید)۔
و في الشامیۃ: (قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية (إلی قوله) أقول: والظاهر أن مرادهم التحريم مطلقا وسد الباب بالكلية وإلا فالحرمة عند قصد اللهو ليست محل الخلاف بل متفق عليها كما مر ويأتي، يعني لما كان الغالب في هذه الأزمنة قصد اللهو لا التقوي على الطاعة منعوا من ذلك أصلا (إلی قوله) و في أول طلاق البحر: من غاب عقله بالبنج والأفيون يقع طلاقه إذا استعمله للهو وإدخال الآفات قصدا لكونه معصية، وإن كان للتداوي فلا لعدمها، كذا في فتح القدير، وهو صريح في حرمة البنج والأفيون لا للدواء۔(کتاب الاشربۃ،ج:6،ص:454تا457،م:سعید)