السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! سوال یہ ہے کہ وضاحت یہ کرنا ہے کہ دو بندے ہے دونوں نوکری کے لیے اہل ہیں، اہل کا مطلب یہ ہے کہ دوسرا غریب بندہ رشوت والے سے بہت قابل ہے، اور رشوت والا اپنی کام میں پاس بھی نہیں ہوتا، لیکن ایک نے پیسے دے کر ٹیسٹ کے جوابات خریدی 90 نمبر لیے، حالانکہ اتنے نمبر حاصل نہ کرسکتے ، اور دوسرے بندے نے 85 نمبر اپنی قابلیت کی حاصل کر کے رہ گیا، اب یہاں وضاحت کرنا ہے، اصل میں رشوت والا بندہ بغیر رشوت کے 30 نمبرات نہیں لے سکتے، اس نے غریب بندے کا حق مارا ، کیا اس کا تنخواہ حلال ہے؟ اسی طرح غریب بندے تو زیادہ قابل ہے اور اس سے بہتر طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔
صورت مسئولہ میں رشوت دینے والے شخص میں اگر مذکور نوکری کے فرائض انجام دینے کی صلاحیت موجود ہو، اور وہ باقاعدہ صحیح طریقہ سے ڈیوٹی انجام دیتا ہو، تو اگر چہ وہ رشوت دینے اور دوسرے کا حق مارنے کی وجہ سے گناہ گار ہوا ہے، جس پر اسے توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے رشوت کے لین دین سے مکمل اجتناب لازم ہے، تاہم اس کی وجہ سے اس کی تنخواہ حرام نہ ہوگی۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ؟ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مني» . رَوَاهُ مُسلم(رقم الحدیث 2860 5/1935 )۔
وفیہا ایضاً: (وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) : بِالْوَاوِ (قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ» ) : أَيْ: مُعْطِي الرِّشْوَةِ وَآخُذَهَا، وَهَى الْوَصْلَةُ إِلَى الْحَاجَةِ بِالْمُصَانَعَةِ، وَأَصْلُهُ مِنَ الرِّشَاءِ الَّذِي يُتَوَصَّلُ بِهِ إِلَى الْمَاءِ، قِيلَ: الرِّشْوَةُ مَا يُعْطَى لِإِبْطَالِ حَقٍّ، أَوْ لِإِحْقَاقِ بَاطِلٍ، أَمَّا إِذَا أَعْطَى لِيَتَوَصَّلَ بِهِ إِلَى حَقٍّ، أَوْ لِيدْفَعَ بِهِ عَنْ نَفْسِهِ ظُلْمًا فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَكَذَا الْآخِذُ إِذَا أَخَذَ لِيَسْعَى فِي إِصَابَةِ صَاحِبِ الْحَقِّ فَلَا بَأْسَ بِهِ، لَكِنَّ هَذَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي غَيْرِ الْقُضَاةِ وَالْوُلَاةِ ; لِأَنَّ السَّعْيَ فِي إِصَابَةِ الْحَقِّ إِلَى مُسْتَحَقِّهِ، وَدَفْعِ الظَّالِمِ عَنِ الْمَظْلُومِ وَاجِبٌ عَلَيْهِمْ، فَلَا يَجُوزُ لَهُمُ الْأَخْذُ عَلَيْهِ، كَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ الْمَلَكِ، وَهُوَ مَأْخُوذٌ مِنْ كَلَامِ الْخَطَّابِيِّ إِلَّا قَوْلَهُ: وَكَذَا الْآخِذُ، وَهُوَ بِظَاهِرِهِ يُنَافِيهِ الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ مِنَ الْفَصْلِ الثَّالِثِ الْآتِي. قَالَ التُّورِبِشْتِيُّ: وَرُوِيَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أُخِذَ فِي شَيْءٍ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ فَأَعْطَى دِينَارَيْنِ حَتَّى خُلِّيَ سَبِيلُهُ (رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ) (رقم الحدیث 3753 6/2437 )