بخدمت
محترم مفتی صاحب
دارالافتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مؤدبانہ گزارش ہے کہ درج ذیل مسئلہ میں شرعی رہنمائی (فتویٰ) درکار ہے:
میرے والد مرحوم کے نام کراچی میں ایک پلاٹ تھا۔ والد صاحب کے انتقا ل کے بعد ورثاء میں میری والدہ، میں (بڑا بیٹا)، ایک چھوٹا بھائی اور ایک بہن موجود ہیں۔
مذکور پلاٹ پر موجود مکمل تعمیر میں نے اکیلے اپنی ذاتی رقم اور بینک لون سے کروائی، جس کی تفصیل یہ ہے:
کہ میں نے مختلف بینکوں سے کل 15,00,000 روپے قرض لیا،
جس میں سے 10,00,000 روپے ادا ہو چکے ہیں
اور 5,00,000 روپے بقایا ہیں۔
مزید یہ کہ میں نے سال 2002 میں اپنی ذاتی دکان 3,60,000 روپے میں فروخت کر کے اس رقم کو بھی اسی تعمیر میں لگا دیا۔
اس طرح میری براہِ راست مالی سرمایہ کاری کل 18,60,000 روپے بنتی ہے۔
پلاٹ پر موجود تیسرا (آخری) فلور جو ادھورا تھا، وہ میں نے خاندانی سونا فروخت کر کے تعمیر کروایا۔
عمارت میں اس وقت:
6 دکانیں
2 مکمل فلور
1 جزوی (ادھورا) تیسرا فلور شامل ہیں۔
اس پوری تعمیر میں کسی دوسرے وارث نے مالی طور پر کوئی حصہ نہیں ڈالا۔
اب جائیداد کی تقسیم کا مرحلہ ہے، جس میں اختلاف یہ ہے کہ آیا:
پوری عمارت وراثت میں شمار ہوگی
یا پہلے میری ذاتی سرمایہ کاری (رقم، قرض، سونا) الگ کی جائے گی، اور اس کے بعد باقی جائیداد شرعی وراثت کے مطابق تقسیم ہوگی؟
صورت مسئولہ میں سائل نے مذکور پلاٹ پر اگر والد مرحوم کی وفات کے بعد دیگر ورثاء کی اجازت و رضامندی سے سب کی رہائش کے لئے ذاتی رقم یا قرض وغیرہ لیکر یہ تعمیر کی ہو، تو ایسی صورت میں یہ تعمیر تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگی، مگر تقسیم سے پہلے ان تعمیرات پر سائل نے جو اخراجات کئے ہیں اس قدر رقم منہا کرکے سائل کو لوٹانی لازم ہوگی۔
کما فی تبیین الحقائق: قال رحمه الله (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها، والنفقة دين عليها) لأن الملك لها، وقد صح أمرها بذلك فينتقل الفعل إليها فتكون كأنها هي التي عمرته فيبقى على ملكها، وهو غير متطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين قال رحمه الله (ولنفسه بلا إذنها فله) أي إذا عمره لنفسه من غير إذن المرأة كانت العمارة له لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا تخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه، ويكون غاصبا للعرصة، وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك قال رحمه الله (ولها بلا إذنها فالعمارة لها، وهو متطوع) أي إذا عمره لها بغير إذنها كانالبناء لها، وهو متطوع في البناء فلا يكون له الرجوع عليها به لأنه لا ولاية له في إيجاب ذلك عليها، وقد ملكته هي برضاه فكان متبرعا اھ(باب العقار المتنازع فيه لا يخرج من يد ذوي اليد، ج:6،ص:225،مط: المطبعة الكبرى الأميرية)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2