السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد از سلام عرض ہے کہ میں ایک عالمِ دین ہوں۔ میرے والد صاحب سرکاری ملازم تھے اور اس وقت پنشن حاصل کر رہے ہیں۔ میری دو بیٹیاں ہیں، جن میں سے ایک بیٹی معذور ہے اور دوسری ابھی نومولود ہے۔ میرا ایک چھوٹا سا ذاتی کاروبار ہے، جس سے آمدن مقرر نہیں؛ کبھی روزانہ ایک ہزار روپے، کبھی پانچ سو، کبھی دو ہزار اور کبھی اس سے کچھ زیادہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کاروبار کو میں نے اپنی بیوی کے زیورات فروخت کر کے شروع کیا ہے۔ اس وقت مجھ پر تقریباً تین لاکھ روپے کا قرض بھی ہے میری بیوی حکومتِ پاکستان کے بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام سے امدادی رقم حاصل کر رہی ہے، اور اسی طرح میری معذور بیٹی کو بھی معذوری کے تحت ماہانہ رقم (تقریباً چار ہزار روپے) ملتی ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ میری بیوی کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقم لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ معذور بیٹی کو ملنے والی سرکاری امداد لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر کسی صورت میں یہ رقم ناجائز ہو تو اس کا شرعی حل کیا ہے آپ کی رہنمائی کا منتظر رہوں گا۔
واضح ہو کہ بینظیر انکم پروگرام کے تحت جو پیسے حکومت کی طرف سے دیےجاتے ہیں، وہ حکومت کی طرف سے زکوٰۃ کے علاوہ پیسوں کے ذریعہ غریب عوام کی مالی معاونت ہوتی ہے، اس لئے اگر سائل کی بیوی اور اس کے معذور بیٹی اس فنڈ کے لئے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ شرائط پر پوری اترتی ہو تو ان کے لئے پروگرام کے تحت ملنے والے پیسے لینا جائز اور درست ہوگا۔
کما فی البدائع: وكما لا يجوز صرف الزكاة إلى الغني لا يجوز صرف جميع الصدقات المفروضة والواجبة إليه كالعشور والكفارات والنذور وصدقة الفطر لعموم قوله تعالى {إنما الصدقات للفقراء} [التوبة: 60] وقول النبي صلى الله عليه وسلم «لا تحل الصدقة لغني» ولأن الصدقة مال تمكن فيه الخبث لكونه غسالة الناس لحصول الطهارة لهم به من الذنوب، ولا يجوز الانتفاع بالخبيث إلا عند الحاجة والحاجة للفقير لا للغني. وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة الخ (کتاب الزکات، ج: 2، ص: 47، ط: سعید)۔
و فی النتف فی الفتاوی للسغدی :والثاني ان يقف الرجل وقفا ويقول وقفته على الارامل واليتامى او ابناء السبيل او الغارمين او العميان او المرضى او المسجونين فهو جائز ويكون وقفا على فقرائهم دون اغنيائهم.اھ(كتاب الوقف، الوقف الذي ينفرد به الفقراء، ج: 1،ص: 528، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)