لے پالک کے احکام

رسمی شادی کی صورت میں پیدا ہونے والی بچی کی ولدیت غیر سے لکھوانے کا حکم

فتوی نمبر :
91417
| تاریخ :
2026-01-27
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / لے پالک کے احکام

رسمی شادی کی صورت میں پیدا ہونے والی بچی کی ولدیت غیر سے لکھوانے کا حکم

میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی سول میرج لاء (civil marriage law) کے تحت ایک غیر مسلم شخص سے ہوئی تھی، جس میں نکاح شامل نہیں تھا۔ اب ہم الگ ہو چکے ہیں، لیکن میری ایک ۳ سال کی بیٹی ہے جس کے پاس کوئی قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔ وہ اپنے حقیقی والد سے وراثت پانے کی حقدار بھی نہیں ہے اور وہ اپنے والد کو جانتی بھی نہیں ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہو رہی ہے، میں اس کے کاغذات کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر میں مستقبل میں اسلامی قانون اور نکاح کے مطابق دوسری شادی کروں، اور میرا دوسرا شوہر اسے اپنی بیٹی کے طور پر قبول کر لے، تو کیا ہم اپنی بیٹی کے پاسپورٹ اور قانونی دستاویزات میں اس (دوسرے شوہر) کا نام لکھ سکتے ہیں؟ "شادی کے وقت میں مسلمان تھی لیکن وہ مسلمان نہیں تھا۔ میرا پہلا شوہر بدتمیز اور پرتشدد (abusive) تھا اور قرض و مالی مسائل کی وجہ سے وہ جیل چلا گیا۔ اب میں اس کے ساتھ اور اپنی بیٹی کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔ اس ملک میں سول طلاق کا عمل جاری ہے جس میں ۳ سے ۵ ماہ لگتے ہیں۔ شادی کے وقت وہ عیسائی تھا اور مجھے اس وقت اس بات کا علم نہیں تھا کہ میں کسی عیسائی مرد سے شادی نہیں کر سکتی۔ یہ صرف عدالت کے ذریعے ایک سول کاغذی شادی تھی جس میں مذہب شامل نہیں تھا۔"

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائلہ نے جو نکاح مذکور عیسائی شخص سے کیا تھا، چونکہ وہ نکاح منعقد ہی نہ ہوا تھا، اس لیے سائلہ کا اس کے ساتھ بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا جائز نہ تھا، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے، جس پر اسے بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے، جب کہ اس ناجائز تعلق کے نتیجہ میں بیٹی کا نسب بھی اس عیسائی شخص سے ثابت نہ ہوگا، بلکہ وہ لڑکی اپنے والدہ ہی کی جانب منسوب ہوگی،اب اگر سائلہ کسی اور مسلمان شخص سے نکاحِ صحیح بھی کر لے، تب بھی اس دوسرے شوہر کے لیے بچے کے کاغذات کے ولدیت کے خانہ میں اپنا نام لکھوانا ناجائز و حرام ہے، البتہ سرپرست کے خانہ میں وہ اپنا نام لکھوا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} (الأحزاب: 4، 5)
وفي الدر المختار: (والولد يتبع خير الأبوين دينا) إن اتحدت الدار ولو حكما، بأن كان الصغير في دارنا والأب ثمة ألخ
وفي رد المحتار: مسلم زنى بنصرانية فأتت بولد فهل يكون مسلما؟ (إلى قوله) قلت: ويظهر لي الحكم بالإسلام للحديث الصحيح «كل مولود يولد على الفطرة حتى يكون أبواه هما اللذان يهودانه أو ينصرانه» (إلى قوله) ولأنهم قالوا إن إلحاقه بالمسلم أو بالكتابي أنفع له (إلى قوله) ولأن الكفر أقبح القبيح فلا ينبغي الحكم به على شخص بدون أمر صريح.اهـ (كتاب النكاح، باب نكاح الكافر، ج: 3، ص: 196-197، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: الإقرار بالولد الذي ليس منه حرام كالسكوت لاستلحاق نسب من ليس منه بحر. اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: الإقرار بالولد إلخ) قال عليه الصلاة والسلام حين نزلت آية الملاعنة «أيما امرأة أدخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولن يدخلها الله جنته اهـ (باب اللعان، ج: 3، ص: 493، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: قلت: وفي مجمع الفتاوى: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل.اهـ وفي رد المحتار: (قوله: لأنه نكاح باطل) أي فالوطء فيه زنا لا يثبت به النسب ألخ (فصل في ثبوت النسب، ج: 3، ص: 555، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91417کی تصدیق کریں
0     139
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ایدھی سے لاوارث بچہ گودلے کر اس کی پرورش کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   لے پالک کے احکام 1
  • لے پالک بھتیجے کی ولدیت میں اپنانام لکھوانا

    یونیکوڈ   اسکین   لے پالک کے احکام 0
  • لےپالک بچہ پرورش کرنے والی عورت کےلئے محرم ہوگایا نہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   لے پالک کے احکام 0
  • کسی کا بچہ لے کر پالنا شادی کرانا اور جائیداد میں حصہ دلوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کی ولدیت میں کس کا نام لکھا جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 2
  • گود لئے بچے کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے ؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • زنا سے پیدا شدہ بچے کی لے پالک اولاد کے طور پر پروش کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 1
  • لے پالک بیٹے کی وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 2
  • لے پالک اولاد کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹے کو واپس لینے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بچہ کو ساری جائیداد دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹی کے نکاح میں حقیقی والد کا نام نہ لینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کی ولدیت میں کسی اور کا نام لکھوانا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • پرورش کرنے والے کا نام بطور ولدیت لکھنے کے لیے گواہی دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک لڑکی کے نکاح میں کس کی ولدیت لکھوائی جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • متبنی بچے کے والد کے خانہ میں کس کا نام لکھنا ضروری ہے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کے ولدیت میں مربی کا نام لکھوانا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • بھتیجے کو لے پالک بیٹے کے طور پر پالنے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • ربیبہ کو اپنا نام دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بچے کو اپنی طرف منسوب کرنا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • ولدیت کے خانے میں تایا ابو کا نام لکھنے کے بعد کاعذات میں تبدیلی کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کو محرم بنانے کا طریقہ

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹا-بیٹی کے احکام

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کے احکام کے متعلق

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
Related Topics متعلقه موضوعات