میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی سول میرج لاء (civil marriage law) کے تحت ایک غیر مسلم شخص سے ہوئی تھی، جس میں نکاح شامل نہیں تھا۔ اب ہم الگ ہو چکے ہیں، لیکن میری ایک ۳ سال کی بیٹی ہے جس کے پاس کوئی قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔ وہ اپنے حقیقی والد سے وراثت پانے کی حقدار بھی نہیں ہے اور وہ اپنے والد کو جانتی بھی نہیں ہے۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہو رہی ہے، میں اس کے کاغذات کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر میں مستقبل میں اسلامی قانون اور نکاح کے مطابق دوسری شادی کروں، اور میرا دوسرا شوہر اسے اپنی بیٹی کے طور پر قبول کر لے، تو کیا ہم اپنی بیٹی کے پاسپورٹ اور قانونی دستاویزات میں اس (دوسرے شوہر) کا نام لکھ سکتے ہیں؟ "شادی کے وقت میں مسلمان تھی لیکن وہ مسلمان نہیں تھا۔ میرا پہلا شوہر بدتمیز اور پرتشدد (abusive) تھا اور قرض و مالی مسائل کی وجہ سے وہ جیل چلا گیا۔ اب میں اس کے ساتھ اور اپنی بیٹی کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔ اس ملک میں سول طلاق کا عمل جاری ہے جس میں ۳ سے ۵ ماہ لگتے ہیں۔ شادی کے وقت وہ عیسائی تھا اور مجھے اس وقت اس بات کا علم نہیں تھا کہ میں کسی عیسائی مرد سے شادی نہیں کر سکتی۔ یہ صرف عدالت کے ذریعے ایک سول کاغذی شادی تھی جس میں مذہب شامل نہیں تھا۔"
صورت مسئولہ میں سائلہ نے جو نکاح مذکور عیسائی شخص سے کیا تھا، چونکہ وہ نکاح منعقد ہی نہ ہوا تھا، اس لیے سائلہ کا اس کے ساتھ بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا جائز نہ تھا، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے، جس پر اسے بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے، جب کہ اس ناجائز تعلق کے نتیجہ میں بیٹی کا نسب بھی اس عیسائی شخص سے ثابت نہ ہوگا، بلکہ وہ لڑکی اپنے والدہ ہی کی جانب منسوب ہوگی،اب اگر سائلہ کسی اور مسلمان شخص سے نکاحِ صحیح بھی کر لے، تب بھی اس دوسرے شوہر کے لیے بچے کے کاغذات کے ولدیت کے خانہ میں اپنا نام لکھوانا ناجائز و حرام ہے، البتہ سرپرست کے خانہ میں وہ اپنا نام لکھوا سکتا ہے۔
كما قال الله تعالى: وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} (الأحزاب: 4، 5)
وفي الدر المختار: (والولد يتبع خير الأبوين دينا) إن اتحدت الدار ولو حكما، بأن كان الصغير في دارنا والأب ثمة ألخ
وفي رد المحتار: مسلم زنى بنصرانية فأتت بولد فهل يكون مسلما؟ (إلى قوله) قلت: ويظهر لي الحكم بالإسلام للحديث الصحيح «كل مولود يولد على الفطرة حتى يكون أبواه هما اللذان يهودانه أو ينصرانه» (إلى قوله) ولأنهم قالوا إن إلحاقه بالمسلم أو بالكتابي أنفع له (إلى قوله) ولأن الكفر أقبح القبيح فلا ينبغي الحكم به على شخص بدون أمر صريح.اهـ (كتاب النكاح، باب نكاح الكافر، ج: 3، ص: 196-197، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: الإقرار بالولد الذي ليس منه حرام كالسكوت لاستلحاق نسب من ليس منه بحر. اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: الإقرار بالولد إلخ) قال عليه الصلاة والسلام حين نزلت آية الملاعنة «أيما امرأة أدخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولن يدخلها الله جنته اهـ (باب اللعان، ج: 3، ص: 493، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: قلت: وفي مجمع الفتاوى: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل.اهـ وفي رد المحتار: (قوله: لأنه نكاح باطل) أي فالوطء فيه زنا لا يثبت به النسب ألخ (فصل في ثبوت النسب، ج: 3، ص: 555، ط: إيج إيم سعيد)