کاروباری کیس – صرف حقائق (برائے مفتی صاحب)
1. 1998 میں ایک باپ نے اپنے دو بیٹوں کے درمیان کاروبار کا حصہ نکالا:
• بڑا بیٹا: 6,00,000 روپے
• چھوٹا بیٹا: 6,00,000 روپے
2. اس وقت بڑے بھائی کی عمر 20 سال اور چھوٹے بھائی کی عمر 5 سال تھی۔
3. کاروبار کا مکمل عملی کنٹرول اور ذمہ داری بڑے بھائی کے پاس رہی،
• کاروبار اسی نے چلایا
• فیصلے اور رسک اسی نے اٹھائے
4. کاروبار سے ایک ٹرک خریدا گیا:
• قیمت: 22 لاکھ روپے
• 12 لاکھ روپے نقد ادا کیے گئے
• 10 لاکھ روپے کا قرض ٹرک پر قسطوں کی صورت میں لیا گیا
5. ٹرک کا قرض اور قسطیں وقت کے ساتھ ادا ہوتی رہیں۔
6. اسی دوران بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کی تعلیم کا خرچ بھی اٹھایا۔
7. بڑے بھائی نے اپنا گھر بھی کاروبار کی آمدنی سے چلایا:
• دو شادیاں کیں
• 7 بچوں کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری اٹھائی
8. 1998 سے 2016 تک کاروبار مسلسل بڑے بھائی کے ذریعے چلتا رہا۔
9. 2017 میں چھوٹے بھائی نے ملازمت شروع کی۔
10. 2017 سے چھوٹے بھائی نے گھر کے خرچ میں حصہ دینا شروع کیا،
• ماہانہ تقریباً 20,000 سے 25,000 روپے
• یہ رقم ہر مہینے بڑے بھائی کو دیتا رہا۔
11. 2019 میں چھوٹے بھائی نے اپنی شادی اپنی ملازمت کی آمدنی سے کی،
• شادی کا خرچ کاروبار سے نہیں ہوا۔
12. 2020 میں چھوٹا بھائی الگ ہو گیا،
• اپنی فیملی کا پورا خرچ اپنی ملازمت کی آمدنی سے کرتا رہا
• کاروبار سے کوئی خرچ نہیں لیتا تھا۔
13. 1998 سے 2026 تک کاروبار کا عملی نظام بڑے بھائی کے ذریعے چلتا رہا۔
14. 2026 میں بڑے بھائی نے پورا کاروبار فروخت کر دیا۔
15. کاروبار فروخت کرنے کے بعد تمام قرض وغیرہ ادا کرنے کے بعد
• تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ روپے (180 لاکھ) باقی بچے۔
16. اب مسئلہ یہ ہے کہ کاروبار سے حاصل ہونے والی اس رقم (180 لاکھ روپے)
• دونوں بھائیوں کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگی؟
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق اگر والد صاحب نے بطور ولی وسرپرست اپنے پانچ سالہ چھوٹے بیٹے کی طرف سے1998 ء میں چھ لاکھ روپے اپنے بڑے بیٹے کے چھ لاکھ روپے کے ساتھ کاروبار شروع کر کے سارے انتظامات بڑے بیٹے کے حوالے کردیئے تھے تو شرعاً یہ صورت شرکت کی ہے ،لیکن دونوں بھائیوں کے درمیان کاروبار سے ہونے والے منافع کی تقسیم کے لئے چونکہ کوئی فیصدی تناسب طے نہیں ہوا،اس لئے یہ شرکت فاسدہ ہے ، اور شرکت فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ اس میں ہونے والا منافع شرکاء کے درمیان ان کے سرمایہ کے تناسب سے تقسیم ہوتا ہے، اور صورت مسئولہ میں چونکہ دونوں بھائیوں کا سرمایہ برابر اور مساوی ہے، اس لئے اب کاروبار کے اختتام پر حاصل شدہ منافع دونوں بھائیوں کے درمیان برابر تقسیم ہونگے جبکہ اس دوران کاروباری منافع سے جو اخراجات ہوئے اگر اس کا مکمل حساب وکتاب معلوم ہو تو ایسی صورت میں جس بھائی نے جتنے اخراجات کئے ہیں وہ اس کے حصے سے منھا کئے جائیں، لیکن اگر اس کا باقاعدہ حساب نہیں رکھا گیا، بلکہ لا علی التعین مشترکہ کاروبار سے دونوں بھائیوں کی رضامندی سےاخراجات ہوتے رہیں ،تو ایسی صورت میں تمام اخراجات مشترکہ کل کاروبار سے منھا ہونگے اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ دونوں بھائیوں کے درمیان برابرتقسیم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال،ولا عبرة بشرط الفضل)(ج:4،ص:326،مط:سعید)
وفی البدائع الصنائع: ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.
(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح.(ج:6،ص:59،مط:ایچ ایم سعید)
وفی شرح المجلہ: يجوز لأحد أصحاب الحصص التصرف مستقلا في الملك المشترك بإذن الآخر، لكن لا يجوز له أن يتصرف تصرفا مضرا بالشريك.اهـ (ج: 4، ص: 12، المادة: 1071، ط: مكتبة رشيدية)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2