ہم چھ بھائی اور ایک حقیقی بہن اور ایک ماں شریک بہن ہے۔
ہم میں سے دو بھائی علیحدہ جبکہ چار بھائی اور ایک حقیقی بہن والدین کے ساتھ جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے جو اپنے جیب خرچ کے علاؤہ تمام رقم امی کے حوالے کر دیتے تھے، تاکہ ان پیسوں سے وہ گھر کا خرچ چلائیں اور ہماری شادی وغیرہ کے انتظامات کر سکیں۔
امی نے ان پیسوں سے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ خریدا جسے سیکورٹی کی غرض سے ایک بھائی کے نام جو نسبتاً مالی طور پر کمزور تھا اور اپنے نام کرایا۔ تاکہ انہیں خود بڑھاپے میں اور ہمارے ایک بھائی کو مسقبل میں تحفظ رہے۔
اب والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ یہ پلاٹ ترکہ شمار ہو گا یا اپنی بچت امی کے ہاتھ دینے والے بھائیوں کی مشترکہ ملکیت تصور ہو گی۔ اگر ترکہ ہے تو اس میں علیحدہ رہنے والے بھائیوں اور ماں شریک بہن کا بھی حصہ ہو گا؟
صورت مسئولہ میں اگر بیٹا اپنی کمائی ملکیتاً والدہ کو دیا کرتاتھا تو اس سے شرعاًوالدہ اس رقم کی مالک بن جاتی تھی ،چنانچہ ان رقوم سےوالدہ نے جب پلاٹ خریدا تو اس پلاٹ کی مالک بھی والدہ مرحومہ بنی، جو اب ان کے انتقال کے بعد ان کی تمام حقیقی اولاد بشمول سائل کی ماں شریک بہن میں بطور ترکہ حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگا،جبکہ محض قانونی معاملات کی آسانی یا دیگر کسی غرض سے ایک بیٹے کا نام کاغذات میں ڈالنے سے شرعا وہ بیٹا مالک شمار نہیں ہوگا۔
کما فی الدر المختار: اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك، فلو استولى في مفازة على حطب غيره لم يملكه ولم يحل للمقلش ما يجده بلا تعريف، وتمام التفريع في المطولات.
(ج؛6،ص:463، مط:ایچ زیم سعید)
وفی البحر الرائق: لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة ولو قال أغرس باسم ابني فالأمر متردد وهو إلى الصحة أقرب اهـ.(ج:7، ص:285)
وفی الھدایۃ:وتصح بالإيجاب والقبول والقبض" أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد، والعقد ينعقد بالإيجاب، والقبول، والقبض لا بد منه لثبوت الملك. وقال مالك: يثبت الملك فيه قبل القبض اعتبارا بالبيع، وعلى هذا الخلاف الصدقة. ولنا قوله عليه الصلاة والسلام: "لا تجوز الهبة إلا مقبوضة" والمراد نفي الملك، لأن الجواز بدونه ثابت، ولأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح،
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2