غیر مسلم سے تعلقات

ملازمت کی جگہ پر موجود شیعہ لوگوں سے کس حد تک میل جول رکھا جائے؟

فتوی نمبر :
91081
| تاریخ :
2026-01-18
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / غیر مسلم سے تعلقات

ملازمت کی جگہ پر موجود شیعہ لوگوں سے کس حد تک میل جول رکھا جائے؟

میں ایک آفس میں ملازمت کرتا ہوں۔جہاں پر بہت سارے اہل ِ تشیع بھی ملازمت کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اہلِ تشیع کیساتھ کس حد تک تعلق رکھا جا سکتا ہے؟ اگر بظاہر گفتگو کے دوران وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا احترام کرتے ہیں تو انکے ساتھ کھانا پینا وغیرہ کس حد تک کر سکتے ہیں؟ دوسرا کیا اس طرح کے لوگوں کیساتھ کاروبار میں شراکت داری کی جا سکتی ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ معاشرت ومعاملات کے باب میں شریعت نےظاہرکا اعتبار کیا اورافرادکے باہمی تعلقات میں عدل، حسنِ سلوک اور فتنہ و فساد سے بچنے کی تلقین کی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں دفتر یا کام کی جگہ پر موجود اہلِ تشیع افراد اگر ظاہراً صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کااحترام کرتے ہوں، ان کی تنقیص و توہین نہ کرتے ہوں اور ان سے کوئی فاسد عقیدہ گفتگو میں ظاہر نہ ہو توان کے ساتھ دفتری معاملات، سلام کلام، تعاون اور عرفی میل جول رکھنا شرعاً جائز ہے۔نیزاہل تشیع میں سے دیانت دار افراد کے ساتھ کاروباری شراکت بھی درست ہے،تاہم عقائد، دینی مباحث، مناظرانہ گفتگو اور ایسے موضوعات جن سے فسادِ عقیدہ یا ذہنی انتشار کا اندیشہ ہو، ان سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی ٲحکام القرآن للتھانوی: المعاملة مع الکفار علی ثلاثة أنحاء، أحدھا: الموالاة، أی المواداة، و الثانی: المداراة، أی إظھار حسن الخلق لھم، و الثالث: المواساة أی إیصال النفع إلیھم بإعطاء المال و نحوہ، أما الموالاة فلا تجوز بحال(إلی قوله) و أما المداراة، فتجوز فی مواضع ثلاثۃ، الأول: لدفع الضرر، و الثانی: لمصلحة الکافر فی دینه، و الثالث: لإکرامه إذا کان ضیفا(إلی قوله) أما المواساة فلا تجوز لأھل الحرب، و تجوز لغیرھم من أھل الذمة، و من ھو مثلھم إلخ۔ (النھی عن موالاۃ الکفار و تحقیق معناھا، ج 2، ص 15، ط:ادارۃ القرآن)۔
و فی الموسوعۃ الفقھیۃ: ذھب الفقھاء إلی أن أفضل الأعمال التی تقرب إلی اللہ، حب العلماء و الصالحین و أھل العدل و الخیر (إلی قولہ) کما یجب علی المؤمن أن یبغض أھل الجور و الخیانۃ، لأن ھذا من محبۃ اللہ، فإن علی المحب أن یحب ما یحب محبوبہ و یبغض ما یبغض محبوبہ، لحدیث: ” و أن یحب المرء لا یحبہ إلا للہ“ إلخ۔ (مادۃ: محبۃ العلماء و الصالحین و عموم المؤمنین، ج 36، ص 187۔188، ط: وزارۃ الأوقاف و الشؤن الإسلامیۃ)۔
وفی الشامیۃ: أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فھو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع إلخ۔(كتاب النكاح ،فصل في المحرمات، ج:3، ص:46، ط:سعيد)۔
وفیھا أیضاً: أن الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنھما فھو كافر، وإن كان يفضل عليا عليھما فھو مبتدع(إلی قولہ) على أن الحكم عليه بالكفر مشكل، لما في الاختيار اتفق الأئمة على تضليل أهل البدع أجمع وتخطئتھم وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا لكن يضلل(إلی قولہ) وأماالرافضي ساب الشيخين بدون قذف للسيدة عائشة ولا إنكار لصحبة الصديق ونحو ذلك فليس بكفر فضلا عن عدم قبول التوبة بل هو ضلال وبدعة إلخ۔ (كتاب المرتد، مطلب مهم في حكم سب الشيخين،ج:4، ص:238، ط:سعيد)۔
وفی الھندیۃ: لا ‌بأس ‌بأن ‌يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية إلخ۔ (كتاب الكراهية، الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليھم، ج:5، ص:348، ط:دار الفكر)۔
وفیھا أیضاً: ولا بأس بطعام المجوس كله إلا الذبيحة، فإن ذبيحتھم حرام ولم يذكر محمد - رحمه الله تعالى - الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره إلخ۔ (كتاب الكراهية، الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليھم، ج:5، ص:345، ط:دار الفكر)۔
وفی الفتاوی البزازیۃ: والأكل مع الكفار لو ابتلى به المسلم لابأس لو مرة أو مرتين، أما الدوام عليه يكره إلخ۔ (كتاب الكراهية، الفصل الثالث فيما يتعلق بالمناهي، ج:6، ص:359، ط:دار الفكر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91081کی تصدیق کریں
0     146
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • غیر مسلم سے عید کے موقع پر ہدیہ اور کھانا قبول کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   غیر مسلم سے تعلقات 1
  • غیرمسلم کے ساتھ مشترکہ کاروبار اورکھانےپینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • غیر مسلم کمپنی کی فرنچائز وطن میں کھولنا

    یونیکوڈ   اسکین   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کا سودا کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • سرِ عام صحابہ کو گالیاں دینے والے شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھنا - پڑھانا

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • غیر مسلم کو ’’بھائی‘‘ کہہ کر مخاطب کرنا

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • غیر ملکی این جی اوز سے رفاہی کاموں میں مدد لینا

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • شیعہ پڑوسی سے تعلق اور میل جول رکھنا

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 1
  • فجر اور ظہر کی سنتوں کی قضا - غیر مسلم کا ہدیہ قبول کرنا

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • قادیانی کی ماتحتی میں ملازمت اور دوستانہ تعلقات کا حکم

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • غیر مسلم ممالک میں رہائش اختیار کرنا

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • غیر سلم ممالک میں سکونت اختیار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • کیا مسلمان ہندو کے گھر کا یا اس کے پیسوں سے کھانا کھا سکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • ہندو سے خدمت لینےکا حکم

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • حج کے علاوہ عام حالات میں حلق کا حکم

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • غیر مسلموں کی عبادت گاہ پر حملہ کاحکم؟ اور ملت و امت میں فرق؟

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • عسائیوں کی تقاریب میں شرکت کرنے اور وہاں کھانے پینے کا حکم

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • قادیانی سے دوستانہ تعلق اور ان کی دعوت میں شرکت کا حکم

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • کیا کرسمس کے موقع پر گفٹ لینا یا گفٹ دینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • ہندو کے ساتھ مشکل حالات میں کھانے پینے میں مددکرنے کا حکم

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • قادیانی کے ساتھ کھانا کھانا اور ان سے دوستی رکھنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • اہل کتاب کے علاوہ دوسرے کافروں کے ہاتھ کا کھانا کھانے کا حکم

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • غیر مسلم ممالک سیر و تفریح یا ملازمت کے لیے جانا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • "میری کرمس" کے جواب میں "یو ٹو " کہنا

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
  • ہندو دوست کی شادی میں شرکت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   غیر مسلم سے تعلقات 0
Related Topics متعلقه موضوعات