میں ایک آفس میں کام کرتا ہوں، وہاں ایک غیر مسلم عیسائی لڑکا بھی ہے، پورے آفس والے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے ، مہربانی کر کے مجھے بتائیں کیا صحیح ہے یا کیا کرنا چاہیے ؟
اگر کبھی کبھار مجبوراً یا ضرورتاً غیر مسلم کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانا کھانے کی نوبت پیش آئے اور کھانے پینے کی چیزیں بھی اپنی ہوں تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اس کو معمول بنا لینا درست نہیں، جس سے احتراز کرنا چاہیے۔
ففى الفتاوى الهندية: ولم يذكر محمد رحمه الله تعالى الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا وحكي عن الحاكم الإمام عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به وأما الدوام عليه فيكره كذا في المحيط اھ (5/ 347)