بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع: بیوی کی طویل نافرمانی، حقِ زوجیت سے مسلسل انکار، مستقل قطع تعلق، سسرال والوں کی عدم تعاون اور گناہ ہو جانے کے خدشے سے بچنے کیلئے بیوی کی اجازت لئے بغیر دوسری شادی اور دیگر امور کےکیلئے مشاورت اور فتویٰ درکار ہے۔
محترم جناب مفتیانِ کرام صاحب اسلام علیکم
میرا نام وقاص شاہ ہے میں پورا خاص سندھ کا رہنے والا ہوں ۔ میں اپنے اس خط میں کچھ مسائل کا خلا صہ بیان کرنا چاہوں گا اور تفصیل کے لیے اس کے ساتھ کچھ مزید کاغذات منسلک کر رہا ہوں اور ان کا حل آپ سے تجویز کرنے کی درخواست کر رہا ہوں۔ میری شادی مورخہ 10 اپریل کو درمیانی شب میں ہوئی۔ میں نے شادی اپنے والدین کی مرضی اور ان کی پسند سے کی۔ شادی کے پہلے اور بعد بہت سے مسائل مجھے سامنا کرنا پڑا جن میں کچھ عرض ہیں جیسا کہ لڑکی نے منگنی کے وقت گولڈ کی خواہش ظاہر کی، والد کیساتھ پچاس ہزار حق مہر کے معاملات طے پا جانے کے بعد لڑکی نے شادی نہ کرنے کی دھمکی دے کر حق مہر کیلئے گولڈ کی شرط رکھی و غیرہ و غیرہ ۔
شادی کے بعد میری بیوی نے مجھےشا دی کے ایک ماہ تک میرے ساتھ رہنے کے باوجود قریب نہیں آنے دیا ، مختلف بہانوں سے خود کو مجھ سے دور رکھتی رہی۔ اول دن سے میرے والدین اور گھر کی برائیاں شروع کر دی میں انہیں مسلسل سمجھاتا رہا ۔اور یہ کل میرے ساتھ دو ماہ رہی جس میں سے میرے ساتھ صرف 30/32 دن گزارے باقی تمام اپنے میکے میں ہی رہی جیسا کہ میں خود پاک فضائیہ کا ملازم ہوں ،جب بھی میں گھر آتا انہیں اپنے ساتھ لے آتا اور جب واپس جاتا تو انہیں والدیں کے گھر چھوڑ کر ڈیوٹی پر جاتا ۔ ہمارے گھر رہنے کے دوران ان پر باقائدہ گھر کے کام کی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی یہ ایام انہیں گھمانے پھرانے اور دعوتیں کھلانے میں گزرے۔ کیونکہ وہ بذات خود گورنمنٹ استاد ہیں اور ان کی نوکری میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی اور انہیں نوکری کے لئے مکمل آزادی فراہم کی گئی۔ نہ ہی ان سے ان کی آمدن کے بارے میں بھی کچھ پوچھا گیا۔ حالانکہ ان کے والدین کے گھر سے اسکول 500 میٹر اور میرے گھر سے اسکول تقریباً صرف 1 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ بہر حال جب میرا ملنا (ازدواجی تعلق قائم) ہوا اس کے کچھ دن بعد ہی اپنے گھر جانے کی ضد کی اور مجھ سے لڑ کر اپنے بھائی کے ہمراہ چلی گئی جس میں میں نے انھیں روکنے کی مکمل کوشش کی یہ نہ رکی۔ ان کے چلے جانے سے کچھ دیر پہلے ان کے والد سے مل کر انکی بیٹی کا ردیہ مکمل بیان کیا اور سمجھا کر واپس بھیجنے کی درخواست کی لیکن پورا پورا مہینہ انتظار کرنے کے کے باوجود کسی کی طرف سے سے کوئی رابطہ نہ نہ کیا گیا سے پھر میں نے ہی کال کی اور اس کے بعد بھی بہت سے مسائل آئے۔میرے گھر سے جانے کے تقریباً مہینہ بعد مجھے ان کے حاملہ ہونے کا علم ہوا جس کا معلوم ہوتے ہی میں نے اپنے والدین کو ان کے گھر طبی معائنے اور گھر واپس لانے کے لئے بھیجا۔ ان کی خواہش کے مطابق انہیں ڈاکٹر تک گاڑی میں لے جایا گیا اور واپسی پر ان کی خواہش دریافت کی جس پر انہوں نے اپنے سسرال واپس جانے سے مکمل انکار کر دیا اور میرے والدین انہیں ان کے والدین کے گھر چھوڑ کر واپس خالی ہاتھ لوٹ آئے۔ اسکے بعد بھی میں نے انھیں واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کی، والدین کے بعد خود بھی لینے گیا، تنگ آجانے کے بعد نوٹس بھی بھیجے جن کی کاپیاں ساتھ لگا دی ہیں جسے آپ ضرور پڑھیں کیونکہ انھیں پڑھ کر آپ کو مسئلے کو سمجھنے میں مزید آسانی ہو جائے گی۔ باقی لڑکی مجھے طلاق دینے، چھوڑ دینے اور علیحدگی اختیار کرنے کیلئے بار بار کہہ چکی ہیں جن میں سے میسجز پر کہے گئے الفاظ کا اسکرین شاٹ بھی ساتھ لگا رہا ہوں۔ آخری بار انہیں جب لینے گیا تو میرے والدین کے ساتھ سخت بد تمیزی سے پیش آئیں اور بہت زیادہ شور و واویلہ کر کے ساتھ آنے اور زندگی ساتھ گزارنے سے واضح اور بار بار انکار کر دیا جس کے بعد میں نے تیسرا نوٹس روانہ کیا جو آپ پڑھ سکتے ہیں۔ مکمل تفصیل آپ کو نوٹس اور اسکرین شارٹس دیکھ کر ہو جائے گی۔ پانچ ماہ مکمل ہو جانے کے بعد ایک بار پھر میں نے انہیں کال کی اور ان کے بہنوئی کو ثالث کا کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کی۔ میرے سسر اور ان کے والد کے عمرہ پر روانگی کا علم ہوا تو انہیں مسئلہ حل کر کے جانے کی درخواست کی لیکن کسی قسم کا جواب دئیے بغیر عمرہ پر روانہ ہو گئے ۔ ان تمام حالات کو دیکھ کر میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ بیوی کے بغیر میرا گزارہ ممکن نہیں ہے۔ اور اس طرز کی عورت کو اپنے ساتھ رکھنے سے قاصر ہوں، میں دوبارہ نکاح کر کے اپنی زندگی کی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ انہیں سدھارنے اور منانے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہو چکی ہیں، از راہ کرم تمام معاملات کو دیکھ کر میری رہنمائی فرمائی جائے۔
مسائل اور سوالات : مسئلہ : بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے سرال کو چھوڑ کر اپنے میکے چلی جائے اور وہاں رہنے میں اپنی مرضی ظاہر کرے، بار بار کوششیں کرنے کے باوجود واپس آنے سے بھی انکاری ہو اور 12 جون سے وہیں قیام پزیر ہو۔ بیوی مکمل نافرمان، ہٹ دھرم، ضدی اور رابطہ نہ رکھنا چاہتی ہو جیسا کہ میرے معاملات میں ظاہر ہے۔
پہلا سوال: ایسے میں وہ نان و نفقہ کی حقدار ہے یا نہیں۔
دوسرا سوال: اوپر دئے گئے حالات کے مطابق جب بیوی نہ واپس آنا چاہتی ہے اور نہ ہی حق زوجیت دینا چاہتی ہو اور نہ خلع لے رہی ہو اور نہ ہی کسی قسم کا رابطہ رکھنا چاہتی ہو ایسے حالات میں اسلامی قانون کے مطابق مجھے دوسری شادی کرنے کے لیے فتوی دیا جائے تاکہ میں مزید پریشانی سے کابچ سکوں۔
تیسرا سوال: مزید پریشانی سے بچنے کے لئے اگر علیحدگی اختیار کرنی پڑے تو مجھے کس طرح معاملہ حل کرنا چاہیے، علیحدگی اختیار کرنے کا مؤثر طریقہ بتایا جائے۔
چوتھا سوال: کیا بیوی کو ان حالات میں طلاق بائن دی جاسکتی ہے؟ جب وہ حاملہ ہو ؟ تمام تر معاملہ آپ کے گوش گزار کر رچکا ہوں، مجھے از راہ کرم تمام چیزوں کو پڑھ کر قرآن و حدیث اور پاکستانی قوانین کے مطابق مجھے فتوے فراہم اورکئے جائیں۔ اور میری مکمل رہنمائی فرمائی جائے۔جزا ک اللہ
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃ درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃ سائل کی بیوی بلا وجہ بغیر کسی عذر شرعی اور شوہر کی اجازت کے ناراض ہو کر اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی ہو اور متعدد مرتبہ بلانے کے باوجود بھی واپس نہ آرہی ہو تو اس کا یہ عمل شرعا جائز نہیں جس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہو رہی ہے اور وہ "ناشزہ"کہلائے گی اور "ناشزہ بیوی" جب تک شوہر کے گھر نہ لوٹے تو اس کا نفقہ شرعا شوہر کے ذمے لازم نہیں ہوتا، لہذا سائل پر اپنی ناشزہ بیوی کا نان و نفقہ لازم نہیں ، جبکہ اس صورتحال میں اگر رشتے میں بہتری کی امید معلوم نہ ہو رہی ہو تو سائل کے لیے موجودہ بیوی سے علیحدگی اختیار کرنے اور دوسری شادی کرنے کی شرعا گنجائش ہے، تاہم طلاق دینے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائل بیوی کو ایک طلاق دے دے ،چنانچہ عدت گزر جانے کے بعد (وضع حمل کے بعد )عورت آزاد ہو جائے گی اور کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔
کما فی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر : (و لا نفقة لناشزة) أي عاصية ما دامت على تلك الحالة ثم وصفها على وجه الكشف فقال (خرجت) الناشزة (من بيته) خروجا حقيقيا أو حكميا (بغير حق) وإذن من الشرع قيد به(1/ 489)
و فی المحيط البرهاني في الفقه النعماني: لمعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج ، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً ، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً و بدونه لا يمكن إيجاب النفقة(3/ 522)-
و فی الھندیۃ : فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملا قد استبان حملها والحسن أن يطلقها واحدة في طهر لم يجامعها فيه ثم في طهر آخر أخرى ثم في طهر آخر أخرى كذا في محيط السرخسي اھ (ج:1،ص:348 دار الفكر بيروت وغيرها)