احکام وراثت

ایک بیٹے کا اپنے حصہ سے پھوپھو کو حصہ دینا

فتوی نمبر :
90800
| تاریخ :
2026-01-11
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ایک بیٹے کا اپنے حصہ سے پھوپھو کو حصہ دینا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! میرا گھر / دکان تقریباً 1 مرلہ یا 1.25 مرلہ ہے ۔اسکو میں نے فروخت کر دیا۔ اسکی قیمت 73 لاکھ روپے ہیں. ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں، ہر ایک بھائی پر ایک بہن کا حصہ ہے ۔ میرے دو بھائیوں نے ابھی تک انکو حصہ نہیں دیا۔ اگر میں ایک بہن کا حصہ تینوں پر تقسیم کر لوں تو جائز ہے، اور اگر جائز ہے تو کتنا کتنا دینا ہوگا ۔ پھر جو باقی بچیں تو ان میں ہم ماں باپ اور (2) بیٹے اور (5) بیٹاں ہے ۔ ان کا جتنا بھی حصہ بنتا ہے تو مجھے تفصیل سے آگاہ کریں؛ کیونکہ میرا بڑا بیٹا مجھ سے الگ ہو گیا ہے اور اپنا حصہ مانگ رہا ہے ، تو گھر والوں سب کا یہ مشورہ ہے کہ اسکو اپنا حصہ دے دیں۔ تاکہ آئندہ کیلئے اُسکا کوئی قرض نہ ہو۔ اس لیئے اس کا جو حق بنتا ہے ، مجھے واضح کریں، بڑی مہربانی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے اس بات کی صراحت نہیں کی، کہ ان کے بہن بھائیوں کے درمیان والدین مرحومین کا تركہ شرعى ضابطے کے تقسیم ہوا ہے یا نہیں، اگر تقسیم ہوا ہو تو اس کے نتیجہ میں سائل کے ذمہ ایک بہن کا حصہ حوالہ کرنا لازم ہے، تا ہم اگر بھائیوں نے والدین کا تركہ تین حصے کر کے ایک ایک بھائی نے ایک ایک بہن كاشرعى حصہ حوالہ کرنا اپنے ذمہ لیا ہو، اور ورثاء بھی فقط تین بھائی اور تین بہنیں ہوں تو شرعا بھی اس کا تقسیم کر کے ہر بھائی کا ایک ایک بہن کو حصہ دینا درست ہے اور جو بھائی حسب معاہدہ جس بہن کو حصہ دے دیتا ہے وہ عند اللہ بری الذمہ ہوگا، تا ہم اگر سائل کو دیگر بھائیوں پر بہنوں کو ان کے حصص دینے کا یقین نہ ہو تو اسے چاہیے کہ ایک بہن کو مکمل حصہ (جو کہ سائل کے کل حصہ کا ایک تہائی %33.33 بنتا ہے ) دینے کے بجائے وہ رقم تین بہنوں پر برابر تقسیم کرے، تاکہ سائل کے پاس ہر بہن کا حصہ اس تک پہنچ سکے۔
جبکہ اس کے بعد بقیہ بچ جانے والی رقم اور جائیداد سائل کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتاہے ،وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتا ہے ، اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے ، بیٹی کےلئے جائیداد میں حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل ہوتا ہے ، لہٰذا سائل کے ذمہ بھی اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ، اور نہ ہی سائل کی اولاد میں سے کوئی سائل سے اسکی جائیداد میں حصہ داری یا فروخت شدہ مکان کی قیمت کی مد میں حاصل شدہ رقم کا مطالبہ کرسکتاہے،البتہ اگر سائل اپنی صحت والی زندگی میں بلاکسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ بھی جائز ہے، لیکن یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے ، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازہ کے موافق اپنی بقیہ زندگی اور بیٹوں کی شادی کے اخراجات کےلئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر اور اپنی بیوی کو جو کچھ دینا چاہے وہ دے کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہوجائے ، محض کاغذوں میں نام کردینا کافی نہیں ، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں، کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے ، البتہ کسی کی خدمت گزاری ، محتاجی یا دین داری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے ، مگر بلا وجہ شرعی کسی کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے ، کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في شرح مختصر الطحاوي للجصاص: قال أحمد: الأصل في جواز الكفالة قول النبي صلى الله عليه وسلم: "‌الزعيم ‌غارم"، والزعيم الكفيل.اهـ (كتاب الحوالة والكفالة والضمان، ج: 3، ص: 228، دار البشائر الإسلامية، ودار السراج)
وفي الدر المختار: (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) (إلى قوله) و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (وركنها) هو (الإيجاب والقبول).إلخ. (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 687، ط: إيج إيم سعيد)
وفي رد المحتار: أقول: ‌حاصل ‌ما ‌ذكره ‌في ‌الرسالة ‌المذكورة ‌أنه ‌ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى.اهـ (كتاب الوقف، ج: 4، ص: 444)
وفي بدائع الصنائع: ‌وينبغي ‌للرجل ‌أن ‌يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: 90] . (وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى (إلى قوله) ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة.اهـ (كتاب الهبة، ج: 6، ص: 127)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90800کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =ایک بیوہ تین بیٹے دو بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات