میرے والد کا 2015 میں انتقال ہو گیا ہے اور اب میرے 5 بھائی، میری بیوہ ماں اور میں 1 بیٹی ہوں۔ پراپرٹی میں وہ ایک گھر ہے بھائی اور والدہ ابھی رہتے ہیں۔ اتنے ٹائم تو سب ٹھیک تھا۔ میرے حالات کو کچھ 2020 سے تو میں نے حصے کی بات کی۔ تو امی اور بھائیوں کے عجیب سے باتیں سنیں اور رویے دیکھے۔ اور بڑے بھائی جو مفتی ہیں نے کہا کہ میکہ رکھنا چاہتی ہو تو یہ باتیں نہ کرو۔ اور دوسرے بھائی جو مولانا ہیں کہتے ہیں کہ ابو کے آخری ٹائم میں ان کے ساتھ تھا انہوں نے کہا تھا کہ یہ گھر تمہاری ماں کا ہے اور میں گواہ ہوں۔ تو اب میں کیا کروں سب کہتے ہیں ایسے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ گواہی قبول نہیں ہوگی۔ تو میں کرنا نہیں چاہتی اور شرعی جائز حق بات جاننا چاہتی ہوں کہ میرے بھائی مجھے بدگمان تو نہیں کر رہے۔ کیا واقعی جائیداد شوہر اپنی بیوی کے نام کر دے تو وراثت تقسیم نہیں ہوتی۔ اور ابو کے انتقال کے بعد 2019 میں دوسرے بھائی اور اس کی وائف کا بھی انتقال ہو چکا ہے۔ اس کے یتیم بچے اسی گھر میں رہتے ہیں وراثت انہیں بھی ملے گی اور ایک بھائی ایڈکٹڈ ہے۔
واضح ہو کہ کوئی چیز محض کسی کے نام کرنے یا منہ ز بانی کسی کو دیدنے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی جب تک اسے اس چیز پر مالکانہ قبضہ نہ دیا جائے ،لہذا سائلہ کے مرحوم والد نے اگر چہ مذکور گھر کے متعلق اپنے بیٹےسے زبانی کلامی یہ کہہ دیا تھا کہ " یہ گھر تمہاری ماں کا ہے " لیکن اگر مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی بیوی کو مذکور مکان باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالہ نہ کیا ہو ، تو محض منہ زبانی یہ کہہ دینے سے کہ " یہ گھر تمہاری ماں کا ہے " شرعاً سائلہ کی والدہ اس گھرکی مالک نہیں بنی ،بلکہ مذکور گھر مرحوم کی وفات تک بدستور اس کی ملکیت میں رہا ، جو اب ان کے انتقال کے بعد سائلہ سمیت اس کے تمام شرعی ورثاء میں حسبِ حصصِ ِ شرعیہ تقسیم ہوگا،اس لیے سائلہ کا اس میں اپنے حق کا مطالبہ کرنا شرعا جائز ہے ، جبکہ والد کے انتقال کے بعد اور تقسیم ترکہ سے پہلےسائلہ کے جس بھائی کا انتقال ہو چکا ہے، تو والد کے انتقال کے وقت حیات ہونے کی وجہ سے مرحوم بھائی اپنے حصہ میراث کا حقدار بن چکا تھا،اس لیے اس کے انتقال کی صورت میں اس کا حصہ اس کے ورثاء(اولاد )میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائے گا،جبکہ سائلہ کا اپنے شرعی حق کے مطالبہ کے جواب میں بھائیوں کا ترکہ تقسیم نہ کرنا اور دیگر ورثا ءکو ان کے حق سے محروم رکھنا درست طرز عمل نہیں ،بلکہ اس کی وجہ سے وہ گنہگار ہو رہے ہیں ،ان پر لازم ہے کہ وہ ورثا ءکو ان کا حق دے کر مؤاخذہ اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں، بصورت دیگر سائلہ کو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہوگا۔
کمافی الدر المختار: (و قسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) و في الخانية : يقسم بطلب كل و عليه الفتوى،لكن المتون على الأول فعليها العول (و إن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض اھ (کتاب القسمۃ،ج:6،ص:260،ط:سعید)
وفیہ ایضا: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا۔الخ(کتاب الھبۃ،ج:5،ص:690،ط:سعید)
وفی رد المحتار: وشروطه ثلاثة موت مورث حقيقة او حكما كمفقود او تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة او تقديرا كالحمل والعلم بجهة ارثه اھ (كتاب الفرائض،ج:6 ص:758،ط:سعید)
وفي الهنديه: ومنھا أن یکون الموھوب مقبوضا حتی لایثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض۔إلخ( کتاب الھبۃ، ج:4،ص: 374،ط: ماجدیۃ )
و فی الفتاوى التاتارخانیة: و في المنتقى عن أبي يوسف : لايجوز للرجل أن يهب لامرأته و أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا و هما فيها ساكنان ، و كذلك الهبة للولد الكبير ؛ لأن يد الواهب ثابتة علي الدار اھ(کتاب الھبۃ،ج:14،ص:431،ط:رشیدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2