السلام علیکم،محترم و مکرم ! سوال یہ ہیکہ ایک فیملی میں تین لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہیں اور ان کے والدین کی جائیداد بھی ہے، والد فوت ہوا ،اس کے بعد ایک لڑکا فوت ہوا، کیا اس لڑکے کے بچوں کو والد اور والدہ دونوں کی جائیداد سے حصہ ہوگا یا صرف والد کی طرف سے ملے گا اور والدہ کی طرف سے نہیں ہوگا ؟نیز واضح رہے کہ والدہ فوت شدہ لڑکے کے بعد فوت ہوچکی ہیں۔
واضح ہوکہ جواولاد والدین کے انتقال کے بعدتقسیم میراث سے قبل انتقال کرجائے،ان کی اولاداپنےدادا،دادی یا نانا ،نانی کےانتقال پراپنے والدین کے توسط سےان کے ترکہ میں شرعاًحصہ داربنتی ہےاورجواولاداپنے والدین کی زندگی میں انتقال کرجائے توان کی اولاداپنے دادا،دادی یا نانا،نانی کے ترکہ میں حقدارنہیں ہوتی ہے،چنانچہ صورتِ مسئولہ میں مرحوم بیٹے کا انتقال چونکہ اپنے والد کے انتقال کے بعد تقسیمِ میراث سے پہلے ہواہے، لہذا مرحوم بیٹے کی اولاد اور بیوہ مرحوم والد کے ترکہ میں اپنے شرعی حصہ کے بقدر وارث ہونگے، تاہم چونکہ مرحوم بیٹے کا انتقال والدہ مرحومہ کے انتقال سے قبل ہوچکاتھا،چنانچہ ان کی بیوہ اوربچے مرحومہ والدہ کے وارث نہیں بنیں گے ۔
جبکہ ترکہ کی تقسیم کا طریقہ کارمعلوم کرنا ہو توورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کرسوال دوبارہ ارسال کردیں،ان شاء اللہ غور وخوض کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کردیاجائیگا۔
کمافی الدرالمختار: هی علم بأصول من فقه و حساب تعرف حق كل من التركة، الخ
وفی ردالمحتار: تحت (قولہ: هی علم بأصول إلخ) أی قواعد و ضوابط(إلی قولہ) و شروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة، و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل، الخ (كتاب الفرائض، ج 6، ص 757، ط: ایچ ایم سعید)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2