احکام وراثت

ماں اور بہن بھائیوں کا اپنی بیٹی اور بہن سے حصۂ میراث کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے قطع تعلق کرنا

فتوی نمبر :
89927
| تاریخ :
2025-12-11
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ماں اور بہن بھائیوں کا اپنی بیٹی اور بہن سے حصۂ میراث کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے قطع تعلق کرنا

درج ذیل مسئلے پر براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرما دیں:
میرے والد ایک پولٹری بزنس چلاتے تھے،میرے والد کا انتقال چھ سال پہلے ہوچکا ہے۔ ورثاء میں ایک بیوہ (میری والدہ)، ان کی والدہ (میری دادی )دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ان کے انتقال کے بعد ان کا مکمل کاروبار، زمین، شاپس، کنٹرول شیڈ، اور دیگر منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اب تک میرے بھائیوں اور میری والدہ کے زیرِ استعمال ہے، اور مجھے بطور بیٹی کوئی شرعی حق نہیں دیا گیا۔دوسری بہن اپنا حق معاف کر چکی ہے اور دادی سےآج تک اس متعلق بات نہیں کی گئی ان سے رابطہ بھی بہت کم ہے، اور میری والدہ ایک دو بار یہ بات کہہ چکی ہیں کہ میں بھی یہ کہہ دوں کہ میں نے اپنا حصہ بھائیوں کو دیا،اور ساری پراپرٹی اور ان کے کرائے میری والدہ لیتی ہیں اور بارہا میرے بھا ئیوں کو کہتی ہیں کہ کاروبار کے تین حصے ہوں گے ،دونوں بھائی اور ایک والدہ کا، غرض ہر چیز کی کسٹڈی والدہ کے پاس ہی ہے، اور جب میں نے اپنے حصے کی بھائیوں سے بات کی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ والدہ سے کہو، وہی کریں گی ،مجھے تو خود چاہیئے۔ جب میں نے اپنا حق مانگا تومیری والدہ نے مجھے بارہا ذلیل کیا، سخت جملے کہے،خاندان میں یہ بات پھیلائی کہ میں پیسے کے لئے ماں کو تنگ کر رہی ہوں،اور اب وہ مکمل طور پر مجھ سے قطع تعلق کر چکی ہیں ،وہ مجھے کہتی ہیں ”تم جیسی اولاد دنیا میں ہی سزا پاتی ہے، تم خاندان کا حصہ نہیں ہو، جاؤ عدالت سے لے لو اپنا حصہ“ میرے بہن بھائیوں نے بھی اسی وجہ سے مجھے خاندان سے الگ کر دیا ہے۔جب بھی میں صلح کی نیت سے بات کرتی ہوں تو مجھے بدتمیزی سے جواب دیا جاتا ہے، مجھے طعنے اور بددعائیں دی جاتی ہیں،مجھے خاندان کے سامنے بدنام کیا جاتا ہے۔اس صورتِ حال نے میرے ذہنی اور روحانی سکون پر گہرا اثر ڈالا ہے،میں نے قانونی نوٹس بھیج کر اپنا وراثتی حق محفوظ کیا ہے۔ اب گھر والے اس کو کیس سمجھ کر میرے خلاف خاندان میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ ایک مفتی صاحب نے کہا ہے کہ میں پوری تفصیل لکھ کر بھیجوں،وہ مجھے قرآنی دلائل کے ساتھ باقاعدہ فتویٰ دیں گے۔
سوال برائے فتویٰ،براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں:
(۱) کیا میرا اپنے والد کی وراثت کا حصہ مانگنا شرعاً درست، لازم اور جائز ہےیا نافرما نی کےزمرے میں آتا ہے؟
(۲) کیا والدہ اور بہن بھائیوں کا مجھے ذلیل کرنا، بائیکاٹ کرنا، حق روکنا اور بددعائیں دینا گناہ کے زمرے میں آتا ہے؟
(۳) کیا ایسے حالات میں میرا صلح کے لئے بار بار کوشش کرنا ضروری ہے؟یاذلت اور تکلیف کے خوف سے خاموش رہنا شرعاً جائز ہے؟
(۴) کیا والدہ کا یہ جملہ کہ ”تم جیسی اولاد دنیا میں ہی سزا پاتی ہے“ شرعاً درست ہے؟
(۵)کیا والدین کو وراثت روکنے، اولاد کو ذلیل کرنے یا بددعا دینے کی شریعت میں اجازت ہے؟
(۶)کیا میں ان کی بدتہذیبی پر صبر کرتے ہوئے اپنا حق قانونی طور پر لے سکتی ہوں؟
محترم مفتی صاحب! ان تمام مسائل پر قرآن و حدیث کے حوالوں کے ساتھ رہنمائی فرما دیں۔والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے احکام ِمیراث بیان فرماکر اسے حدود اللہ قرار دیا ہے ،اور ان احکام پرعمل درآمدکرنے والوں کے لئے جنت کی بشارت سنائی ہے ، جبکہ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے دردناک عذاب کی وعید بیان کی ہے ، اسی طرح ا حادیث ِمبارکہ میں بھی اس شخص کے بارے میں بڑی سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں جو ترکہ میں سے کسی حق دارکو اس کے حصۂ شرعی سے محروم کرتا ہے، ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے؛ آپ ؑ نے فرمایا کہ ” کسی مسلمان کا مال اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر حلال نہیں“ جبکہ ایک اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ”جس شخص نے بھی اپنے کسی وارث کا حصۂ میراث کاٹ دیا ( یعنی محروم کردیا) تو اللہ تعالیٰ بروزِقیامت جنت میں سے اس کا حصہ کاٹ دیں گے ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃًسائلہ کی والدہ نے اس کےوالدمرحوم کے انتقال کے بعد تقسیمِ میراث کے بجائےان سے حاصل شدہ منافع ورقم غیر شرعی طورپر اپنے درمیان ہی تقسیم کر لی ہو، اور اپنی بیٹی (سائلہ)کو اس کے حصۂ شرعی سے محروم رکھا گیا ہوتو یہ غصب کہلائیگا،ان کے لئے ایسا کرنا شرعاً ناجائز وحرام تھا ، جس کی وجہ سے وہ سب سخت گناہ گار ہوئے ہیں ۔
اگرچہ شریعت اولاد کو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ادب اور احترام کا حکم دیتی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ والدین کو اولاد پر ظلم کرنے، وراثت روکنے یا ناحق بددعا دینے کی اجازت حاصل ہو، والدین بھی شریعت کے احکام کے پابند ہیں،لہذا سائلہ کی والدہ اوردیگربہن بھائیوں کا اپنے جائز حصۂ شرعی کا مطالبہ کرنے پراس کو ناحق بددعائیں دینا، ذلیل و خوار کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہرصورت احترازلازم ہے۔ اس لیے اگر ورثاء سائلہ کو اس کا شرعی حق ادا نہیں کرتے تو سائلہ قانونی اور شرعی طریقے سے اپنا حق حاصل کر سکتی ہے، اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
اس کےبعدواضح ہوکہ سائلہ کے مرحوم والد کی وفات کے بعد انکا ترکہ ان کےموجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیرمنقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی ، زیورات ، نقدی رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کر نے کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یابیوہ کا حقِ مہرواجب الأدا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 /1) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ایک سوچوالیس (144) حصے بنائے جائیں، جن میں سے بیوہ کواٹھارہ (18) حصے، والدہ کوچوبیس (24) حصے،ہرایک بیٹے کو چونتیس (34) حصے ، جبکہ ہر ایک بیٹی کو سترہ ( 17 ) حصہ دید یے جائیں ، مزید سہولت کیلئے فیصدی حصے بھی لکھ دیے ہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالیٰ: تِلۡكَ حُدُودُ اللَّهِۚ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا الۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيمُ، وَمَن يَعۡصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَاب مُّهِين، (سورۃ النساء، الآیۃ: 13-14)-
وقال ایضاً: يَٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِالۡبَٰطِلِ، الخ (سورۃ النساء،الآیۃ 29)-
وفی احکام القرآن للجصاص: قال أبو بكرؒ قد انتظم هذا العموم النھى عن أكل مال الغير ومال نفسه كقوله تعالى ولا تقتلوا أنفسكم قد اقتضى النھی عن قتل غيره وقتل نفسه فكذلك قوله تعالى لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل نھی لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل الخ (سورۃ النساء، الآیۃ 29، باب التجارات و خیار البیع، ج2، ص172، ط: سھیل اکیڈمی لاھور)-
وفی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيدؓ قال: قال رسول الله ﷺ "من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين" متفق عليه، (کتاب البیوع، باب الغصب و العاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1969، المرقم: 2938، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیہ ایضاً: وعن أبی حرة الرقاشیؒ، عن عمهؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه" رواه البيهقی فی "شعب الإيمان "، والدارقطنی فی "المجتبى" (کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الاول، ج 5، ص 1974، المرقم: 2946، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفیہ ایضاً: وعن أنسؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قطع ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة" رواه ابن ماجه،
وفی المرقاۃ: تحت قولہ ﷺ (يوم القيامة) قال الطيبیؒ: تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران، (کتاب البیوع، باب الوصیا، ج 5، ص 2040، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفی صحیح مسلم: سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة بطن بواط، وهو يطلب المجدي بن عمرو الجهني، وكان الناضح يعتقبه منا الخمسة والستة والسبعة، فدارت عقبة رجل من الأنصار على ناضح له، فأناخه فركبه، ثم بعثه فتلدن عليه بعض التلدن، فقال له: شأ، لعنك الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من هذا اللاعن بعيره؟ قال: أنا، يا رسول الله قال: انزل عنه، فلا تصحبنا بملعون، لا تدعوا على أنفسكم، ولا تدعوا على أولادكم، ولا تدعوا على أموالكم، لا توافقوا من الله ساعة يسأل فيها عطاء، فيستجيب لكم"الخ (کتاب الزھد والرقائق،باب:حديث جابرالطويل، وقصة أبي اليسر، ج4، ص2304، المرقم: 3009،ط:دار إحیاء التراث العربی،بیروت)-
وفی البحر: وصرح في جامع الفصولين من الفصل الثامن والعشرين؛ لو قال وارث تركت حقي لا يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك،الخ (کتاب الوقف، جعل الواقف غلة الوقف لنفسه أو جعل الولاية إليه، ج8، ص243، ط: دارالکتب الأسلامی)-
وفی الھندیۃ: ويجب على الغاصب رد عينه على المالك وإن عجز عن رد عينه بهلاكه في يده بفعله أو بغير فعله فعليه مثله إن كان مثليا كالمكيل والموزون فإن لم يقدر على مثله بالانقطاع عن أيدي الناس فعليه قيمته يوم الخصومة عند أبي حنيفةؒ وقال أبو يوسفؒ: يوم الغصب وقال محمدؒ: يوم الانقطاع كذا في الكافي، وإن غصب ما لا مثل له فعليه قيمة يوم الغصب بالإجماع كذا في السراج الوهاج،الخ(کتاب الغصب، ج5، ص119، ط: مکتبۃ مجدیۃ)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89927کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات