جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم
میں ایک بیوہ عورت ہوں، جب میرے شوہر کا انتقال ہوا تو میں ایک فلیٹ کی مالک تھی، جو میرے نام پر تھا، پھر میری ایک بیٹی اور داماد میرے ساتھ رہنے لگے ،ان کا اس وقت کوئی گھر نہیں تھا، تقریباً ایک سال کے بعد میرے فلیٹ کے اوپر والا فلیٹ انہوں نے خرید ا اور آسانی کی خاطر اندر سے راستہ بنا لیا اوپر جانے کے لئے ،اس عرصے میں میرے گھٹنے خراب ہو گئے، جس کی وجہ سے اترنا ،چڑھنا مجھے تھوڑا مشکل تھا ،جو بیٹی میرے گھر میں رہ رہی تھی ،اس نے مجھے مشورہ دیا کہ ہم دونوں اپنے اپنے فلیٹ بیچ کر ایک فلیٹ ڈیفنس میں لے لیتے ہیں اور پھر پیسہ آئے گا تو ہم بھی دیں گے، وہ گھر ہم دونوں کا ہوگا ۔
پھر اس نے کہا کہ جب ہم الگ الگ بیچیں گے تو ٹیکس زیادہ لگے گا ،آپ اپنا فلیٹ مجھے گفٹ کر دیں تو پھر میں بیچ کر زمین لے لوں گی، یہ گفٹ صرف ٹیکس بچانے کے لیے ہوگا ،وہ گھرمیرا اور آپ کا ہوگا، آپ میرے ساتھ رہیں گے، اس طرح اس نے بیچ کر زمین لے لی اور گھر بنا لیا ۔11 یا 12 سال گزر گئے ،ان لوگوں کی بیماری اور حالات ،جو ان کے شوہر کے اس طرح کی تھی کہ اس کو حکومت کی وجہ سے یہ شہر چھوڑ کر دوسرے شہر میں رہناتھا ،اس طرح کی پریشانی کی وجہ سے میں اپنی بچی سے کبھی یہ نہیں کہہ پائی کہ ”بیٹا ! مجھے کوئی چیز ایسی لکھ کر دے دو کہ میں اپنے دوسرے بچوں کو بتا سکوں کہ میں نےاپنے فلیٹ کے پیسے کہاں لگائے ہیں؟اب وہ لوگ مجھے ذلیل کر رہے ہیں تو میں نے کہا کہ ”تم دونوں میرا وہ پیسہ مجھے واپس کر دو، جو لیا تھا “وہ کہتے ہیں کہ وہ آپ نےمجھے گفٹ کر دیا تھا“ میں 70 سال کی بوڑھی عورت ہوں، میرے پاس کوئی اور اثاثہ نہیں ہے،یہ لوگ میرا حصہ واپس دینا نہیں چاہتےاورکہتے ہیں کہ آپ کوٹ تک جائیں گی تو بھی ہم انکار کر دیں گے ، اب مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں ؟اس کے بارے میں جو بھی حکم شرعی ہو، تحریر فرمائیں۔
نوٹ:یہ فیلٹ میرے شوہر نے میرے نام ہی خریدا تھا، کاغذات سب میرے نام پر تھا،میرے شوہر کے ورثاء میں بیوہ، ایک بیٹا اور دوبیٹیاں ہیں۔
صورت مسئولہ میں سائلہ کابیان اگرمبنی برحقیقت ہوتوان کی بیٹی کا اپنی ماں کے ساتھ روا رکھاجانے والاسلوک انتہائی شرمناک،قابل مذمت اورشرعی طور پر ناجائز وحرام ہے۔ والدین کے مال میں دھوکہ دہی، وعدہ خلافی اور ماں جیسی ہستی کی تذلیل گناہ کبیرہ ہے۔ سائلہ کی بیٹی پرلازم ہے کہ وہ اپنےمذکوررویّہ پربصدق دل ندامت کے ساتھ توبہ واستغفار کرے، والدہ سے اپنی زیادتی کی معافی مانگے اوران کا حق ادا کرے۔کیونکہ والدین کے مال میں خیانت ، وعدہ خلافی اوران کے ساتھ ناروا برتاؤ و سلوک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتاہے۔
جبکہ کوئی چیز فقط کاغذات میں کسی کے نام ہبہ کردینے سے وہ ہبہ تام نہیں ہوتااورنہ ہی وہ چیزموہوب لہ (جس کوہبہ کیاگیاہو)کی شرعاً ملکیت بنتی ہے،کیونکہ ہبہ تام ہونے کے لئے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ دینالازم وضروری ہوتاہے ، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ نے مذکور مکان میں صرف کاغذی کاروائی کی حدتک ٹیکس سے بچنے کی غرض سے اپنی بیٹی کے نام کردیا ہو اور باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ اس کا قبضہ نہ دیا ہو تو ایسی صورت میں ہبہ تام نہ ہونے کی وجہ سے مذکور مکان بدستور سائلہ کی ملکیت رہااور جس کو بیچنے کے بعد وہی اس کی مالیت کی حقدار ہے، نیز وہ اس مالیت سے خریدےجانے والے فلیٹ میں اپنے حصہ شراکت کے بقدر شریک متصور ہوگی۔لہٰذا سائلہ کی بیٹی پر لازم ہے کہ وہ محاسبۂ اعمال کے دن کوپیش نظررکھتےہوئے اپنی والدہ کو ان کا حق ادکرے، تاکہ مواخذۂ اخروی سے سبکدوشی حاصل ہوسکے۔
کمافی صحیح مسلم: عن سعید بن زید قال: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول:من اخذ شبرا من الأرض ظلما، فانہ یطوقه يوم القيامة من سبع أرضين ( باب تحریم الظلم،وغصب الارض،ج:2،ص:868،ط:بشری)۔
وفی الدر المختار: (و تتم)الھبۃ بالقبض الکامل(ولو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولاً بہ)الخ (کتاب الھبۃ، ج: 5،ص: 690، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2