السلام علیکم!کمپنی کا نام”Phillip option “ ہے۔جس میں online tradingکےلئے کوئی آدمی بذریعہ whats app لنک بھیجتا ہے ۔ نفع میں کمیشن اس بھیجنے والے کو بھی ملتا ہے۔ کمپنی کی تفصیل نہیں ہے۔ کمپنی کا Whats app number +601172506246. 7- اس پر جو آدمی آپ Add کرتے ہیں، اس کے متعلق پیغام بھیجا جاتا ہے۔ Online Trading کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ دن کو کسی وقت وہ Whats app پر پیغام بھیجتے ہیں کہ آج کس چیز پر Trading کرنا ہے، مثال کے طور پر Gold,Silver,cryptocurrency, New York Oil ,Brass, Platinum, pladdium وغیرہ۔ رات کے 11 سے 1 بجے کے درمیان 10سے 15یا 20 منٹ کی trading کرنا ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر میں نے گولڈ پر trade کیا ، buy up پندرہ منٹ لگایا ، اس کے فوراً بعد اس کا نفع یا نقصان 10/15/20 منٹ کے اندر آجاتا ہے۔ قبضے میں کوئی چیز نہیں ہوتی، بس نفع یا نقصان اسی 10 / 15 منٹ میں آجاتا ہے۔ نفع یا نقصان 1 سے 3 فیصد تک آ جاتا ہے، رقم نکلوا سکتے ہیں۔ 40 گھنٹے کے اندر رقم آ جاتی ہے ۔ اگر یہ ہماری رقم ہمیں نہ دیں، ہم ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کر سکتے، کیونکہ ان کی مزید تفصیلات ہمارے پاس نہیں ہے۔ اب تک جو نفع حاصل ہو چکا ہے کیا وہ مالک کے لیے جائز ہے؟ نیا فتوی درکار ہے۔ مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں والسلام
صورتِ مسئولہ میں سائل نے مذکورہ کمپنی کے ذریعے کی جانے والی آن لائن ٹریڈنگ کاجوطریقہ کارذکرکیاہے، وہ شرعاً جائزنہیں؛ کیونکہ اس میں کسی چیز کی حقیقی خرید و فروخت نہیں ہوتی ، بلکہ مختصر وقت میں نفع و نقصان کا فیصلہ محض اندازے پر ہوتاہے،جوغرراور قمار (جوا)کے مشابہ ہے۔ نیز کمپنی کی قانونی حیثیت بھی غیرواضح اورمشکوک ہے،لہٰذا اس قسم کی ٹریڈنگ میں شرکت سےگریزکرناچاہیے۔اب تک جورقم حاصل ہوئی ہواس میں سےاصل سرمایہ کی بقدررقم رکھنے کے بعدباقی رقم بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے ۔
کما فی القرآن المجید:(یٰأیؔھا الذین آمنوا إنما الخمر و المیسر و الأنصاب و الأزلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون) الآیۃ۔ (سورۃ المائدۃ، آیت نمبر: 90)۔
و فی أحکام القرآن للجصاص: قال اللہ تعالیٰ (إنما الخمر و المیسر و الأنصاب و الأزلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ) (إلی قولہ) و أما المیسر فقد روی عن علی أنہ قال الشطرنج من المیسر و قال عثمان و جماعۃ من الصحابۃ و التابعین النرد و قال قوم من أھل العلم القمار کلہ من المیسر و أصلہ من تیسیر أمر الجزور بالاجتماع علی القمار فیہ و ھو السھام التی یجیلونھا فمن خرج سھمہ استحق منہ ما توجبہ علامۃ السھم فربما أخفق بعضھم حتی لا یحظی بشئ و ینجح البعض فیحظی بسھم الوافر و حقیقتہ تملیک المال علی المخاطرۃ۔ و ھو أصل فی بطلان عقود التملیکات الواقعۃ علی الاخطار کالھبات و الصدقات و عقود البیاعات و نحوھا إذا علقت علی الاخطار بأن یقول قد بعتک إذا قدم زید و وھبتہ لک إذا خرج عمرو لأن معن إیسار الجزور أن یقول من خرج سھمہ استحق من الجزور کذا فکان استحقاقہ لذالک السھم منہ معلقا علی الخطر (إلی قولہ) (رجس من عمل الشیطان) فإن الرجس ھو الذی یلزم اجتنابہ إما لنجاستہ و إما لقبح ما یفعل بہ من عبادۃ أو تعظیم (إلی قولہ) و إنما قال تعالیٰ (من عمل الشیطان) لأنہ یدعو إلیہ و یأمر بہ فأکد بذالک أیضا حکم تحریمھا إذ کان الشیطان لا یأمر إلا بالمعاصی و القبائح و المحرمات (إلی قولہ) قولہ تعالیٰ (إنما یرید الشیطان أن یوقع بینکم العداوۃ و البغضاء فی الخمر و المیسر) الآیۃ فإنما یرید بہ ما یدعو الشیطان إلیہ و یزینہ من شرب الخمر (إلی قولہ) فیؤدی ذالک إلی العداوۃ و البغضاء و کذالک القمار یؤدی إلی ذالک قال قتادۃ کان الرجل یقامر فی مالہ و أھلہ فیقمر و یبقی حزینا سلیبا فیکسبہ ذالک العداوۃ و البغضاء إلخ۔ (باب تحریم الخمر، ج 2، ص 461۔466، ط: سہیل أکیڈمی)۔