محترم مفتی دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عرض ہے کہ درج ذیل مسئلہ کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:زید اور اس کی پہلی بیوی عائشہ کے تین بچے تھے:1.فاطمہ، 2.زینب،3. بکر۔ عائشہ کا انتقال 1995 میں ہوگیا۔
بعد ازاں زید نے 1998 میں آمنہ سے دوسری شادی کی،آمنہ اپنے پہلے شوہر علی کی بیوہ تھی، اور اس کے پہلے شوہر سے ایک بالغ بیٹا حسن تھا،زید اور آمنہ کے درمیان کوئی اولاد نہیں ہوئی،بکر 1999 میں بیرونِ ملک گیا اور وہاں کمائی کرتے ہوئے رقم والد زیدکو بھیجتے رہیں، جس پر انہوں نے مختلف اوقات میں 2001 تا 2018 مختلف پراپرٹی خریدی،جس میں درج ذیل چار پراپرٹیاں شامل ہیں:پراپرٹی نمبر 1،پراپرٹی نمبر 2،پراپرٹی نمبر 3اور پراپرٹی نمبر 4۔
بعد میں زید نے پراپرٹی نمبر 1 اور 2 اپنے بیٹے بکر کے نام رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈز کے ذریعے 2010 تا 2013 کے دوران منتقل کردیں،جبکہ پراپرٹی نمبر 3 اور 4 زید کی وفات کے وقت تک اسی کے نام پر رہیں،زید کا انتقال 2018 میں ہوگیا،زید کے انتقال کے بعد تقسیم ترکہ سے قبل زید کی بیٹی زینب کا 2023 میں انتقال ہوگیا، وہ غیر شادی شدہ تھی اور اس کی کوئی اولاد نہیں تھی،زید کی دوسری بیوی آمنہ کا انتقال 2025میں ہوا،اور ان کے ورثاء میں مذکور بیٹے یعنی حسن کے علاوہ کوئی نہیں ہے،جبکہ زید کے والدین کا انتقال بہت پہلے ہو چکا تھا، اور اس کے کوئی حقیقی بھائی بہن بھی نہیں ہیں،آپ سے یہ مسئلہ معلوم کرنا ہے:
کہ زید کی میراث میں کن کن افراد کا حق بنتا ہے؟اور ہر وارث کو شرعاً کتنا حصہ ملے گا؟
ازروئے شریعت مفصل جواب مرحمت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں اگر مسمی ”زید“ کا بیٹامسمی ”بکر“اپنے والد کے ساتھ رہتے ہوئے بیرونِ ملک کمائی کرکے وہ رقم مشترکہ گھریلو اخراجات کیلئےاپنے والد صاحب کو قرض، شراکت وغیرہ کی صراحت کئے بغیر بھیجتا رہا ہو(جیسا کہ عام طور پر بیٹے اپنے والد کو رقم بھیجتے رہتے ہیں)،تو ایسی صورت میں بکر کی جانب سے یہ اپنے والد کے ساتھ تبرع و احسان شمار ہوگا اور وہ رقم والد ہی کی ملکیت شمار ہوگی، چنانچہ والدنے اس رقم سے کچھ جائیدادوغیرہ خریدرکھی تھی،تواس جائیداد کا مالک وہ بذات خود تھا،لہذا اس جائیداد میں سے کچھ پراپرٹی اپنی صحت والی زندگی میں انہوں نے اگرواقعۃً رجسٹرڈ گفٹ ڈیڈ کے ذریعہ اپنے بیٹے(بکر) کے نام منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ مالکانہ تصرفات کے ساتھ اس کے حوالے کیے ہو تو ایسی صورت میں بکر ہی شرعاً اس قدر حصہ کا مالک بن چکا ہے،اور یہ دو (2) پراپرٹیز زیز مرحوم کے ترکہ میں شامل نہ ہوگی،لیکن اس کے علاوہ جو کچھ جائیداد ان کے انتقال کے وقت تک ان کی ملکیت میں رہی وہ ان کے انتقال کرجانے کے بعد موجود ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنی لازم ہوگی،اور مذکور بیٹی مسماۃ ”زینب“ کی وفات مرحوم کے بعد ہوئی ہے، اس لئے وہ بھی مرحوم زید کے ترکہ میں اپنے حصۂ شرعیہ کے حقدار ہوکر اسے ملنے والا شرعی حصہ بھی اس کے اپنے شرعی ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا ۔
جبکہ زید مرحوم کی دوسری بیوی مسماۃ”آمنہ “ کی پہلے شوہر سے مذکور لڑکامسمی ” حسن “ اپنے سوتیلے والد (زید) کے ترکہ میں شرعاً حقدار نہیں، البتہ وہ اپنی والدہ مرحومہ کو اپنے شوہر( یعنی زید ) کی طرف سے ملنے والے ترکہ میں سے حصہ شرعی کا حقدار ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ زید مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا مرحومہ بیواؤں کا مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو توبقیہ مال کے ایک تہائی(3/1) کی حد تک اس پرعمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چھیانوے (96)حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کے حقیقی بیٹے مسمی ”بکر“ کوچھپن (56) حصے،اوراس کی بیٹی مسماۃ”فاطمہ“ کو اٹھائیس(28) حصے،جبکہ مرحوم کے سوتیلے بیٹے مسمی”حسن “ کو بارہ (12) حصے دیے جائیں۔
وفی الھندیۃ: أما تفسیرھا فھی تملیک عین بلا عوض کذا فی الکنز و أما رکنھا فقول الواھب و ھبت لأنہ تملیک و إنما یتم بالمالک وحدہ و القبول شرط ثبوت الملک للموھوب لہ۔إلخ( کتاب الھبۃ، الباب الأول فی تفسیر الھبۃ إلخ، ج: 4، ص: 374، ط: مکتبہ ماجدیۃ )۔
و فیھا أیضاً: و منھا ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض،الخ(کتاب الھبۃ،ج:4،374،:ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: ویستحق الإرث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھو القرابۃ والسبب وھو الزوجیۃ والولاء إلخ( کتاب الفرائض، الباب الأول فی تعریفھا و فیما یتعلق بالترکۃ، ج: 6، ص: 447، ط: ماجدیۃ )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2