دادی کی وفات کے بعد اُن کی میراث کا کیا حکم ہے، جبکہ دادی کا بیٹا (میرے والد) دادی سے آٹھ سال پہلے وفات پا چکے تھے؟ کیا ایسی صورت میں بیٹے کی اولاد کو بھی حصہ ملے گا؟
واضح ہو کہ جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال اپنے والد یا والدہ کے انتقال سے پہلے ہو جائے تو شرعاً اس کی اولاد اپنے دادا دادی یا نانا نانی کی میراث میں قریبی ورثاء کی موجودگی میں مستحق نہیں ہوتی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل کے والد کا انتقال اپنی والدہ مرحومہ کی حیات میں ہو گیا تھا، لہٰذا سائل اور اس کے دیگر بھائی بہن والد کے توسط سے دادی مرحومہ کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہوں گے، البتہ اگر سائل کے تایا یا چچا میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو بلکہ صرف پھوپھی موجود ہو تو ایسی صورت میں پوتوں کو بھی دادی مرحومہ کے ترکہ میں سے شرعی حصہ ملے گا، جو کہ بوقتِ ضرورت ورثا کی مکمل تفصیل لکھ کر حکمِ شرعی معلوم کر لیا جائے۔
کما فی المبسوط للسرخسی: و انما تحقق الوجوب لہ عند الموت و لان المانع صفۃ الوراثۃ و لا یعرف ذالک الا عند الموت لان صفۃ الوراثۃ لا تکون الا بعد بقاء الوارث حیا بعد موت المورث الخ ( باب الوصیۃ للمورث الخ، ج 27، ص 176، ط : اسلامیۃ )۔
وفی الشامیۃ: و شروطہ ثلاثۃ : موت مورث حقیقۃ او حکما کمفقود او تقدیرا کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ او تقدیرا کالحمل و العلم بجھۃ إرثہ الخ ( کتاب الفرائض، ج 6، ص 757، ط: ایچ ایم سعید )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2