مرحومہ..... زوجہ(مرحوم ....) کا انتقال ہوگیا، مرحومہ.....کی ملکیت میں ایک عدد مکان ہے، اور ان کی دو اولادیں ہیں، بیٹا محمد.....(مرحوم) اور بیٹی ......(حیات) ، بیٹا مرحوم .....کی کوئی اولاد نہیں ہے، جبکہ بیٹی .....کے چھ بچے ہیں، ایک بیٹا، اور پانچ بیٹیاں۔ بیٹا ..... (مرحوم) کا انتقال ان کی والدہ کے انتقال کے بعد ہوا، مرحومہ .... ان کی کوئی بہن یا بھائی نہیں تھا، اور نہ ہی بیٹا مرحوم .....کے کوئی قریبی رشتہ دار (چچا، پھوپھی، ماموں وغیرہ) اور نہ ہی ان کی کوئی اولاد ہے، اس وقت صرف بیٹی ....حیات ہے۔ اب شرعی طور پر وضاحت مطلوب ہے کہ مرحومہ ....کی جائیداد میں بیٹا مرحوم محمد.....کی بیوہ کو کتنا ملے گا؟ اور کتنا ان کی بیٹی ...... کو ملے گا؟
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ (قیصر جہاں) کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل نو(9) حصے بنائے جائیں، جن میں مرحومہ کی بیٹی کو سات(7) حصے، اور مرحومہ کی بہو(بیوہ ... مرحوم) کو دو(2) حصے دیے جائیں.
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0