السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ !مفتی صاحب! میرے منجھلے بھائی کا ابھی 12 اکتوبر کو انتقال ہوا ہے، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، میں بھی بیوہ ہوں، اور میری بھی کوئی اولاد نہیں ہے، نہ ہی میرا کوئی ذاتی گھر ہے۔ میں اپنی اس بہن کے گھر رہتی ہوں جو میرے اس بھائی سے چھوٹی ہے۔
2009 میں میرے شوہر کا انتقال ہوا تھا، تب سے میں یہیں ہوں۔ میری اسی بہن کا بیٹا میرا خرچ اٹھاتا ہے، میری اس بہن کے دو بچے ہیں: ایک بیٹا اور ایک بیٹی، بہن کا بھی 2014 میں انتقال ہو گیا تھا، میری بھانجی بھی یتیم ہے اور غیر شادی شدہ ہے۔ میرے یہ بھائی جن کا انتقال ہوا ہے، یہ بھی اسی بہن کے گھر میں رہائش پذیر تھے۔ اپریل 2025 میں انہوں نے اپنا گھر بیچ کر رقم نیشنل سیونگ میں جمع کرا دی تھی۔ ان کی جو پنشن 40 ہزار آتی تھی، وہ میرے چھوٹے بھائی کے پاس ہوتی تھی، وہی جا کر لیتے تھے۔ چھوٹے بھائی نے ان کے ساتھ جوائنٹ اکاؤنٹ میں اپنا نام شامل کروایا تھا۔ میرے بھائی کے پاس تقریباً 20 سے 25 لاکھ روپے جمع ہیں۔ میرے دونوں بھائیوں کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ جن بھائی کا انتقال ہوا ہے، ان کی بیوی کا بھی 2023 میں انتقال ہو گیا تھا۔ جس بہن کے گھر میں ہم رہتے ہیں، وہ بھی وہی بہن ہے۔ میرے بھانجے انیس نے ہم دونوں کو سنبھالا ہے۔ یہ بھائی (مرحوم) خرچے کے پیسے بھی نہیں دیتے تھے، صرف دو مہینے چھوٹے بھائی نے تین ہزار ہفتہ دیا۔ سارا پیسہ چھوٹے بھائی کے پاس ہے۔ ہم تین بہنیں اور تین بھائی ہیں، جن میں سے دو بڑی بہنیں اور دو بڑے بھائی انتقال کر چکے ہیں۔ جس بہن کے گھر ہم رہتے ہیں، اس کے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، بیٹی کی شادی نہیں ہوئی، اس کا خرچ بھی میرا بھانجا انیس اٹھاتا ہے۔ بڑی بہن کی سات اولادیں ہیں، سب شادی شدہ ہیں، کوئی غیر شادی شدہ نہیں ہے۔ میری ان بہنوں کی اولادیں نہ میرے اس بھائی سے ملتی ہیں ، نہ مجھ سے ۔ آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ میرا، بھانجے بھانجیوں کا، اور چھوٹے بھائی کا جس نے ان کے سارے پیسوں پر اپنا حق رکھا ہوا ہے ، کیا شرعی حق ہے؟ ان کی پنشن جو جمع تھی، اس میں سے چھوٹے بھائی نے کفن دفن کیا ہے۔ کتنی رقم پنشن کی جمع ہے، یہ مجھے نہیں معلوم۔ ہمیں شرعی حق بتا دیں۔ شکریہ ۔
نوٹ: دونوں بہنوں اور دونوں بھائیوں کا انتقال ہو چکا ہے، صرف میں اور یہ بھائی زندہ ہیں۔ میں سب سے چھوٹی ہوں۔ اس بھائی کی بھی کوئی اولاد نہیں ہے، اور جن دونوں بھائیوں کا انتقال ہو چکا ہے، ان کی بیویاں بھی وفات پا چکی ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کےمرحوم بھائی کی بیوی، والدین اور اولادمیں سے چونکہ کوئی موجود نہیں، اس لیے ان کے ترکہ کے شرعی وارث صرف حقیقی بہن بھائی ہیں۔ سائلہ کے بیان کے مطابق ان کی تین بہنیں اور تین بھائی تھے، جن میں سے دو بہنیں اوردوبھائی مرحوم کی زندگی میں ہی وفات پا چکے ہیں،اس لیے ان مرحوم بہن بھائیوں کی اولاد یں (بھتیجے ،بھتیجیاں ،بھانجے، بھانجیاں) مرحوم کے ترکہ وارث نہیں بنیں گے، کیونکہ حقیقی بہن بھائی کی موجودگی میں بھتیجے، بھانجے، بھانجیاں "محجوب" ہوتے ہیں۔لہٰذا مرحوم کا ترکہ سائلہ اوراس کے موجودبھائی کے درمیان شرعی اصول کے مطابق تقسیم ہوگا۔
جبکہ سائلہ کے چھوٹےبھائی کا مرحوم بھائی کے سارے ترکہ پرقبضہ کرکے بہن کواس کے حصہ شرعی سے محروم رکھناشرعاًناجائزاورحرام ہے، لہٰذاسائلہ کے چھوٹے بھائی پر مرحوم کی کل رقم حساب کرکے اس میں سے مرحوم کے کفن و دفن کےمتوسط اخراجات منہا کرنے کے بعد باقی تمام رقم اپنے اورسائلہ کے درمیان (لڑکی کولڑکے کے مقابل آدھاحصہ دینا)کے شرعی اصول کے تحت تقسیم کرنالازم وضروری ہے، ورنہ وہ گناہ گارہوگا اوریوم آخرت میں قابل مواخذہ قرارپائے گا۔
کمافی شرح المجلۃ: المادۃ 1092- کما أن أعیان المتوفی المتروکۃ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصھم کذلک یکون الدین الذی لہ فی ذمۃ شخص مشترکاً بینھم علی حسب حصصھم إلخ (الکتاب العاشر: فی انواع الشرکات، ج 4 ، ص 27 ، ط: دار الکتب العلمیۃ)-
وفی الدر المختار: لا یجوز التصرف فی مال غیرہ بلا إذنہ (کتاب الغصب، ج 9، ص 291، ط: دار الکتب العلمیۃ)-
وفی الشامیۃ: لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي (إلی قولہ)(باب التعزیر،ج: 4، ص: 61، ناشر: سعید)-
وفی الھندیۃ: إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق اھ(فصل فی التعزیر،ج: 2، ص: 167، ناشر: ماجدیۃ)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2