بخدمت جناب مفتیانِ کرام السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! محترم گزارش ہے کہ میرا بیٹا غنی رحمان جو کینسر ے مرض میں مبتلا تھااور علاج کے دوران انتقال کر گیا،غنی رحمان مرحوم کو علاج کے دوران ہمیں کچھ لوگوں سے رقم ادھار لینی پڑی،علاج کے سلسلے میں،لیکن افسوس کہ وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گیا،اب آپ حضرات سے رہنمائی چاہیئے کہ میرے بیٹے کا کمپنی میں انشورنس تھا، جو کہ ہمیں ملا،اس میں سے کچھ رقم یعنی چار لاکھ روپے ہم نے ادھار دیا،ان لوگوں کو جن سے علاج کے دوران لیا تھا اور ایک لاکھ روپے اس کی بیوی ہم سے لے گئی، جو کہ میرے بیٹے کے انتقال کے تین دن بعد چلی گئی تھی، عدت پورا کیے بغیراور اپنے کمرے کا سارا سامان بھی اپنے ساتھ لے گئی تھی،اب ہم پر ابھی بھی ادھار باقی ہے، میرے بیٹے کا کمپنی میں گریجویٹی باقی ہے، جو کہ ہمیں اب ملنا ہے،تو سوال میرا یہ ہے کہ گریجویٹی کی جو رقم ملنی ہے،اس میں بیوی کا حق ہے؟اگر ہے تو کتنا ؟مرحوم غنی رحمان کے کوئی اولاد نہیں تھی،اب آپ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس معاملے پر شرعی رہنمائی فرمائیں۔والسلام
نوٹ:مرحوم کے ورثاء میں والدین اور بیوہ موجود ہیں۔
واضح ہو کہ گریجویٹی کے نام سے ملنے والی رقم شرعاً مرحوم کا ترکہ نہیں، بلکہ یہ ادارہ کی طرف سے مرحوم کے زیرِ کفالت افراد کے ساتھ تعاون اور تبرع ہے،لہذا یہ رقم اگر بغیر کسی تعیین کے دی جائے ،تو مرحوم کے تمام ورثاء اسمیں برابر کے شریک ہونگے،چنانچہ اس صورت میں مرحوم کی بیوہ کو گریجویٹی کی رقم سے حصہ ملے گا، اور اگر ادارہ اپنے ضابطہ کے مطابق مرحوم کے ورثاء میں کسی ایک کو نامزد کردے، تو اس رقم کا وہی حقدار ہوگا،دیگر ورثاء کااسمیں کوئی حق نہ ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے بیٹے مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائداد سونا ، چاندی، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہو ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، البتہ اگر کسی اور نے تبرعاً یہ مصارف ادا کئے ہوں، تو اب یہ ترکہ سے منھا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل چار ( 4) حصے بنائے جائیں،جن میں سے بیوہ کو ایک ( 1)،والدہ کو ایک (1)اور والد کو دو ( 2) حصے دئے جائیں۔
قال اللہ تعالی: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ الایۃ ( سورۃ النساء،آیت نمبر 12)۔
وفی شرح المجلۃ الاحکام: ( كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين وارثيه
على حسب حصصهم كذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخر مشتركا بين وارثيه على حسب حصصهم ) كما تكون أعيان المتوفى المتروكة مشتركة بين - وارثيه , على حسب حصصهم الإرثية بموجب علم الفرائض الخ ( کتاب الشرکۃ،الفصل الثالث فی الدیون المشترکۃ،ج 3،ص 54،المادۃ 1092،ط: دار الكتب العلمية)۔
و فی تکملۃ رد المختار : الارث جبری لا یسقط بالاسقاط الخ ( کتاب الدعوی، باب التحالف، فصل فی دفع الدعاوی ، ج 7، ص 505، ط : سعید)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0